صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 515 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 515

صحیح البخاری جلد ۲ ۵۱۵ ١٩ - كتاب التهجد يَقُوْلُ اشْتَكَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت جندب ( بن وَسَلَّمَ فَلَمْ يَقُمْ لَيْلَةً أَوْ لَيْلَتَيْنِ۔عبداللہ بجلی ) سے سنا۔وہ کہتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو آپ ایک یا دو راتیں نہیں اُٹھے۔اطرافه ۱۱۲٥، ٤۹۵۰، ٤٩٥١، ٤٩٨٣۔١١٢٥ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ :۱۱۲۵ محمد بن کثیر نے (بھی) ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سفیان نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اسود بن قیس سے، قَيْس عَنْ جُنْدَبِ بْن عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ الله اسود نے حضرت جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے عَنْهُ قَالَ احْتَبَسَ جِبْرِيلُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ روایت کی کہ انہوں نے کہا: جبرائیل صلی اللہ علیہ وسلم وَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ في صلى اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے سے ( کچھ مدت) وَسَلَّمَ فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ أَبْطَاً رکے رہے تو قریش کی ایک عورت نے کہا: اس کے شیطان نے اس کے پاس آنے میں دیر کر دی ہے۔عَلَيْهِ شَيْطَانَهُ فَنَزَلَتْ: وَالضُّحَى اس پر یہ آیات نازل ہوئیں: وَالضُّحَى وَاللَّيْلِ إِذَا وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ سَجَى مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلی یعنی دن کی روشنی کی قسم ! اور رات کی جب وہ پرسکون ہو۔تیرے رب نے نہ تو تجھے چھوڑا ہے اور نہ وہ ناراض ہوا ہے۔وَمَا قَلَى (الضحى: ٢-٤) اطرافه: ۱۱۲٤، ٤٩٥۰، ٤٩٥١ ٤٩٨٣ تشریح تَرُكُ الْقِيَامِ لِلْمَرِيضِ : فرض نماز بیماری میں بھی ترک نہیں کی جاتی۔مگر تہجد چونکہ فرض نہیں، اس لئے بیماری میں ترک کی جاسکتی ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شاذ و نادر ہی ایسا کیا۔تانماز فریضہ اور تہجد میں امتیاز قائم رہے۔باب ۴ یہی بات ذہن نشین کروانے کے لئے باندھا گیا ہے۔باوجود اس کے کہ نماز تہجد فرض نہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ التزام کے ساتھ ادا کی ہے۔ایک یا دو دفعہ چھوڑنے سے یہ مراد نہیں کہ وہ کسی صورت میں بھی ادا نہیں کی۔نماز خاموشی سے لیٹے لیٹے بھی ادا کی جاسکتی ہے۔(دیکھئے کتاب تقصیر الصلاة تشریح باب ۱۹) اسی طرح لوگ سمجھتے تھے کہ جبریل نے آپ کو چھوڑ دیا ہے مگر در حقیقت اس نے آپ کو چھوڑا نہیں تھا۔اس کا آپ سے دائمی تعلق تھا۔گو آپ کبھی بیماری کی وجہ سے اُٹھ نہ سکے ہوں۔مگر اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ آپ نے لیٹ کر بھی نماز تجد نہیں پڑھی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص کو تلقین فرمائی تھی کہ اس شخص کی طرح نہ ہونا ؛ جو رات کو اُٹھا کرتا تھا۔پھر اُس نے رات کو اُٹھنا چھوڑ دیا۔( روایت نمبر ۱۱۵۲) نماز تو آپ کی روح رواں ہو چکی