صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 513 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 513

صحیح البخاری جلد ۲ ۵۱۳ ١٩ - كتاب التهجد مَلَكَيْن أَخَذَانِي فَذَهَبًا بِي إِلَى النَّارِ کنوئیں کی طرح وہ اندر سے بنا ہوا ہے اور اس کے دو فَإِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ كَطَيَ الْبِشْرِ وَإِذَا لَهَا کوئے (ستون) ہیں اور کیا دیکھتا ہوں۔اس میں کچھ قَرْتَانِ وَإِذَا فِيْهَا أُنَاسٌ قَدْ عَرَفْتُهُمْ لوگ ہیں جنہیں میں نے پہچان لیا ہے۔(یہ دیکھ کر ) فَجَعَلْتُ أَقُوْلُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ قَالَ میں نے کہنا شروع کیا: میں آگ سے اللہ کی پناہ لیتا ہوں۔کہتے تھے : پھر ہمیں ایک اور فرشتہ ملا اور اس نے فَلَقِينَا مَلَكَ آخَرُ فَقَالَ لِي لَمْ تُرَعْ۔مجھ سے کہا: ڈرو نہیں۔اطرافه: 440، ١١٥٦، ۳۷۳٨، ۳۷۴۰، ۷۰۱۰، ۷۰۲۸، ۷۰۳۰۔١١: فَقَصَصْتُهَا عَلَى حَفْصَةَ :۱۱۲۲ میں نے یہ خواب حضرت حفصہ سے بیان فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى رَسُوْلِ اللهِ صَلَّی کیا۔حضرت حفصہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ سے بیان کیا۔آپ نے فرمایا: عبداللہ اچھا آدمی ہے، اللهِ لَوْ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ فَكَانَ بَعْدُ کاش رات کو تہجد کی نماز بھی پڑھا کرتا۔اور اس کے لَا يَنَامُ مِنَ اللَّيْلِ إِلَّا قَلِيْلًا۔بعد وہ رات کو کم ہی سویا کرتے تھے۔اطرافه ۱۱٥٧، ۳۷۳۹، ۳۷۴۱، ۷۰۱۶، ۷۰۲۹، ۷۰۳۱، تشریح : فَضْلُ قِيَامِ اللَّيْلِ : قیام اللیل سے مراد تہجد ہے۔قرآن مجید مومن کے ایمان کی یہ علامت قرار دیتا ہے: يَتُونَ لِرَبِّهِمُ سُجَّدًا وَّ قِيَامًا (الفرقان: ۶۵) یعنی مومن اپنے رب کے حضور سجدوں میں اور کھڑے ہو کر رات گزارتے ہیں۔پھر فرماتا ہے : تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا (السجدہ : ۱۷) یعنی ان کے پہلو بستروں سے الگ ہو جاتے ہیں۔وہ امید وہیم میں اپنے رب سے دعائیں کرتے ہیں اور ان مومنوں کی صفت بیان فرماتا ہے کہ كَانُوا قَلِيلًا مِّنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ۔(الذاریات : ۱۸) یعنی رات کو بہت تھوڑا سویا کرتے تھے۔محولہ بالا روایت میں حضرت عبد اللہ بن عمر کے خواب کا ذکر ہے۔جسے سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھ لیا کہ ان میں کوئی کمزوری ہے، جس کی وجہ سے ان کو جہنم کی طرف لے جاکر اس کا نظارہ دکھایا گیا ہے۔اس لئے آپ نے تہجد پڑھنے کے لئے فرمایا، تا اس سے ان کی کمزوری دور ہو جائے اور یہی وہ فضیلت ہے نماز تہجد کی، جس کے لئے عنوان باب قائم کیا گیا ہے یعنی اس نماز سے تزکیہ نفس کامل طور پر ہوتا ہے۔جب تک اللہ تعالیٰ پر سچا ایمان اور اس سے سچی محبت نہ ہو، تب تک انسان اپنی آرام کی گھڑیاں چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔یہ ایمان اور محبت اور دعا ئیں آخر اس کے تزکیہ کا باعث بن جاتی ہیں۔اس تعلق میں کتاب النتنجد باب نمبر ۱۴ روایت نمبر ۱۱۴۵ بھی ملاحظہ ہو۔