صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 513
صحيح البخاري - جلد ۲ الله ١٩ - كتاب التهجد مَلَكَيْنِ أَخَذَانِي فَذَهَبَا بِي إِلَى النَّارِ کنوئیں کی طرح وہ اندر سے بنا ہوا ہے اور اس کے دو فَإِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ كَطَيِّ الْبِشْرِ وَإِذَا لَهَا کوئے (ستون) ہیں اور کیا دیکھتا ہوں ۔ اس میں کچھ قَرْنَانِ وَإِذَا فِيْهَا أُنَاسٌ قَدْ عَرَفْتُهُمْ لوگ ہیں جنہیں میں نے پہچان لیا ہے۔ ( یہ دیکھ کر ) فَجَعَلْتُ أَقُوْلُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ قَالَ میں نے کہنا شروع کیا: میں آگ سے اللہ کی پناہ لیتا ہوں۔ کہتے تھے : پھر ہمیں ایک اور فرشتہ ملا اور اس نے فَلَقِينَا مَلَكَ آخَرُ فَقَالَ لِي لَمْ تُرَعْ۔ مجھ سے کہا: ڈرو نہیں۔ اطرافه ٤٤٠ ، ١١٥٦ ، ۳۷۳٨، ۳۷۴۰ ، ۷۰۱۵، ۷۰۲۸، ۷۰۳۰۔ ۱۱۲۲: فَقَصَصْتُهَا عَلَى حَفْصَةَ ریم ۱۱۲۲: میں نے یہ خواب حضرت حفصہ سے بیان فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى کیا ۔ حضرت حفصہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ سے بیان کیا۔ آپ نے فرمایا: عبد اللہ اچھا آدمی ہے، اللَّهِ لَوْ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ فَكَانَ بَعْدُ کاش رات کو تہجد کی نماز بھی پڑھا کرتا۔ اور اس کے لَا يَنَامُ مِنَ اللَّيْلِ إِلَّا قَلِيْلًا ۔ بعد وہ رات کو کم ہی سویا کرتے تھے۔ اطرافه: ۱۱۵۷، ۳۷۳۹ ، ۳۷۷۱ ، ۷۰۱۶، ۷۰۲۹، ۷۰۳۱ تشریح : فَضْلُ قِيَامِ اللَّيْلِ : قیام الیل سے مرد تجہ ہے۔ قرآن مجیدمومن کے ایمان کی یہ علامت قرار دیتا ہے : يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَ قِيَامًا (الفرقان: ۶۵) یعنی مومن اپنے رب کے حضور سجدوں میں اور کھڑے ہو کر رات گزارتے ہیں۔ پھر فرماتا ہے : تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا (السجدہ: ۱۷) یعنی ان کے پہلو بستروں سے الگ ہو جاتے ہیں۔ وہ امید و بیم میں اپنے رب سے دعائیں کرتے ہیں اور ان مومنوں کی صفت بیان فرماتا ہے کہ كَانُوا قَلِيلًا مِّنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُوْنَ ۔ (الذاریات : ۱۸) یعنی رات کو بہت تھوڑا سویا کرتے تھے۔ محولہ بالا روایت میں حضرت عبداللہ بن عمر کے خواب کا ذکر ہے۔ جسے سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھ لیا کہ ان میں کوئی کمزوری ہے، جس کی وجہ سے ان کو جہنم کی طرف لے جا کر اس کا نظارہ دکھایا گیا ہے۔ اس لئے آپ نے تہجد پڑھنے کے لئے فرمایا، تا اس سے ان کی کمزوری دور ہو جائے اور یہی وہ فضیلت ہے نماز تہجد کی ، جس کے لئے عنوان باب قائم کیا گیا ہے یعنی اس نماز سے تزکیہ نفس کامل طور پر ہوتا ہے۔ جب تک اللہ تعالیٰ پر سچا ایمان اور اس سے سچی محبت نہ ہو، تب تک انسان اپنی آرام کی گھڑیاں چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ یہ ایمان اور محبت اور دعائیں آخر اس کے تزکیہ کا باعث بن جاتی ہیں۔ اس تعلق میں کتاب التجد باب نمبر ۱۴ روایت نمبر ۱۱۴۵ بھی ملاحظہ ہو۔