صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 512
صحيح البخاری جلد ۲ ۵۱۲ ١٩ - كتاب التهجد جس سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ رات کا وقت دعا کے لئے نہایت مناسب ہے۔ اس وقت انسان یکسو ہو کر جناب الہی کے حضور اپنی مناجات میں دل کی گہرائیوں سے راز و نیاز کی باتیں کرنے میں آزاد ہوتا ہے۔ رات کے سنسان عالم میں جبکہ سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات کے اور کوئی دیکھنے، سننے والا نہیں ، آپ کا مذکورہ بالا دعا کرنا بتاتا ہے کہ آر کر نا بتاتا ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال پر، اس کی قدرت کاملہ پر، اس کے وعدوں کے سچا ہونے پر ، اس کی جزا و سزا پر، اس کے تمام انبیاء کی صداقت پر اور اپنی رسالت پر کامل یقین تھا۔ انسان لوگوں کے سامنے اپنے متعلق تکلف سے بہت کچھ مظاہرہ کر سکتا ہے۔ مگر اس تنہائی کی گھڑی میں جب ساری دنیا سوئی پڑی ہو، خیالات کے جذبات میں تبدیل ہو کر بے ساختہ زبان سے جاری ہونے کے یہ معنی ہیں کہ آپ کا دل محبت ویقین سے معمور تھا۔ مذکورہ بالا دعا آپ کی مقدس زندگی کی مخفی کیفیات قلبی کا ایک روشن نمونہ ہے۔ کیونکہ انسان کی دعائیں دراصل اس کے خیالات و جذبات کی حقیقی ترجمان ہوتی ہیں۔ بَاب ۲ : فَضْلُ قِيَامِ اللَّيْلِ شب بیداری کی فضیلت ۱۱۲۱ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ۱۱۲۱: ہم سے عبداللہ بن محمد (مسندی) نے بیان کیا، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌح کہا: ہشام ( بن یوسف صنعانی ) نے ہم سے بیان کیا، وَ حَدَّثَنِي مَحْمُوْدٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ کہا: معمر نے ہمیں بتایا ۔ او محمود بن غیلان ) نے الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ بھی مجھ سے بیان کیا، کہا: عبدالرزاق نے ہم سے بیان عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيْهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ کیا۔ انہوں نے کہا: معمر نے ہمیں بتایا کہ زہری سے ، سالم نے ا كَانَ الرَّجُلُ فِي حَيَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى الله مروی ہے۔ انہوں نے سالم سے بسا ا نے اپنے باپ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ کی زندگی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى رُؤْيَا قَصَّهَا عَلَى میں جب کوئی شخص خواب دیکھتا تو وہ اسے رسول اللہ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتا۔ میں نے بھی خواہش فَتَمَنَّيْتُ أَنْ أَرَى رُؤْيَا فَأَقُصَّهَا عَلَى کی کہ کوئی خواب دیکھوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے بیان کروں۔ میں نوجوان تھا اور رسول اللہ علی وَكُنْتُ غُلَامًا شَابًا وَكُنْتُ أَنَامُ فِي کے زمانہ میں مسجد میں سویا کرتا تھا۔ میں نے خواب الْمَسْجِدِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّی میں دیکھا جیسے دوفرشتوں نے مجھے پکڑ لیا ہے اور وہ مجھے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُ فِي النَّوْمِ كَأَنَّ دوزخ کی طرف لے گئے ہیں۔ میں کیا دیکھتا ہوں کہ