صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 505
البخاري- جلد ٢ ۵۰۵ ۱ - كتاب تقصير الصلاة ١١١٥ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ :۱۱۱۵ الحق بن منصور نے ہم سے بیان کیا، کہا: روح قَالَ أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ أَخْبَرَنَا بن عبادہ نے ہمیں بتایا۔(انہوں نے کہا: ) حسین حُسَيْنَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْن بُرَيْدَةَ عَنْ (معلم) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عبداللہ بن بریدہ عِمْرَانَ بْن حُصَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ سے عبداللہ نے حضرت عمران بن حصین سے روایت سَأَلَ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔کی۔انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔وَ أَخْبَرَنَا إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اور اسحاق بن منصور ) نے بھی ہم سے بیان کیا، کہا: عبد الصمد الصَّمَدِ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا نے ہمیں بتایا، کہا: میں نے اپنے باپ (عبدالوارث ) سے الْحُسَيْنُ عَنْ أَبِي بُرَيْدَةَ قَالَ حَدَّثَنِي سنا۔انہوں نے کہا حسین (معلم ) نے ہمیں بتایا کہ ابن بریدہ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنِ وَكَانَ مَبْسُوْرًا قَالَ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: حضرت عمران بن حصین نے سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ مجھ سے بیان کیا۔اور ان کو بواسیر تھی۔کہتے تھے : میں نے وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ الرَّجُلِ قَاعِدًا فَقَالَ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم سے آدمی کے بیٹھ کر نماز پڑھنے کی إِنْ صَلَّى قَائِمًا فَهُوَ أَفْضَلُ وَمَنْ صَلَّى نبت پوچھا۔آپ نے فرمایا: اگر کھڑا ہوکرنماز پڑھے تو بہتر ہے اور اگر بیٹھ کر پڑھے تو اس کو کھڑے ہو کر پڑھنے والے کی قَاعِدًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَائِمِ وَمَنْ نسبت آدھا اجر ملے گا اور جس نے لیٹ کر نماز پڑھی۔اس کو صَلَّى نَائِمًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَاعِدِ۔اطرافه: ۱۱۱٦، ۱۱۱۷۔بیٹھنے والے کی نسبت آدھا اجر ملے گا۔تشریح صَلَاةُ الْقَاعِدِ : عنوان باب من عنوان باب مطلق رکھا گیا ہے۔جس سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ بیٹھ کر نماز پڑھنا امام اور مقتدی دونوں کے لئے معذوری کی حالت میں جائز ہے۔جیسا کہ روایت نمبر ۱۱۱۳ کے آخری حصہ سے ظاہر ہے۔اگر معذور بیٹھ کر نماز پڑھتا ہے تو کئی ثواب کی کوئی وجہ نہیں۔ثواب میں کمی اسی وقت متصور ہوسکتی ہے جب انسان بغیر عذر بیٹھ کر نماز پڑھے۔مذکورہ بالا واقعہ میں اطاعت امام کی وجہ سے ثواب متحقق ہے۔روایت نمبر ۱۱۵ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب سے پایا جاتا ہے کہ آپ کے فتوے کا تعلق ایسے شخص کے بیٹھ کر نماز پڑھنے سے ہے جو کھڑا ہو سکتا ہے اور پھر بیٹھ کر نماز پڑھتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مطلق فتوی بیان کر دیا ہے۔اُس کے مطابق ہر شخص اپنی استطاعت یا عدمِ استطاعت کا بہتر اندازہ کرسکتا ہے۔