صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 505 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 505

صحيح البخاری جلد ۲ ۵۰۵ ۱۸ - كتاب تقصير الصلاة ١١١٥ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ۱۱۱۵: الحق بن منصور نے ہم سے بیان کیا، کہا: روح قَالَ أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ أَخْبَرَنَا بن عبادہ نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا: ) حسین حُسَيْنٌ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ (معلم) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبداللہ بن بریدہ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ سے ، عبد الله نے لد نے حضرت عمران بن حصین سے روایت سَأَلَ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کی۔ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ وَ أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اور اسحاق ( بن منصور ) نے بھی ہم سے بیان کیا، کہا: عبد الصمد الصَّمَدِ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا نے ہمیں بتایا، کہا: میں نے اپنے باپ ( عبدالوارث) سے الْحُسَيْنُ عَنْ أَبِي بُرَيْدَةَ قَالَ حَدَّثَنِي سنا۔ انہوں نے کہا: حسین (معلم) نے ہمیں بتایا کہ ابن بریدہ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنِ وَكَانَ مَبْسُوْرًا قَالَ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: حضرت عمران بن حصین نے سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ مجھ سے بیان کیا۔ اور ان کو بواسیر تھی۔ کہتے تھے: میں نے وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ الرَّجُلِ قَاعِدًا فَقَالَ رسل اللہصلی اللہ علیہ وسلم سے آدمی کے بیٹھ کر نماز پڑھنے کی إِنْ صَلَّى قَائِمًا فَهُوَ أَفْضَلُ وَمَنْ صَلَّى نسبت پوچھا۔ آپ نے فرمایا: اگر کھڑا ہوکر نماز پڑھے تو بہتر ہے اور اگر بیٹھ کر پڑھے تو اس کو کھڑے ہو کر پڑھنے والے کی قَاعِدًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَائِمِ وَمَنْ نسبت آدھا اجر ملے گا اور جس نے لیٹ کر نماز پڑھی۔ اس کو صَلَّى نَائِمًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَاعِدِ۔ بیٹھنے والے کی نسبت آدھا اجر ملے گا۔ اطرافه: ١١١٦، ١١١٧۔ سے یہ تشریح : صَلَاةُ الْقَاعِدِ : عنوان باب مطلق رکھا گیا ہے جس سے یہ جانا مقصد ہے کہ لیٹ کر نماز پڑھنا ا ہے بیٹھ امام اور مقتدی دونوں کے لئے معذوری کی حالت میں جائز ہے۔ جیسا کہ روایت نمبر ۱۱۱۳ کے آخری حصہ سے ظاہر ہے۔ اگر معذور بیٹھ کر نماز پڑھتا ہے تو کئی ثواب کی کوئی وجہ نہیں ۔ ثواب میں کمی اسی وقت متصور ہو سکتی ہے -------- رہ بالا واقعہ میں اطاعت امام کی وجہ سے تو امام کی وجہ سے ثواب متحقق ہے۔ روایت نمبر ۱۱۱۵ مذکورہ بالا میں لے فتوے کا تعلق ایسے شخص کے بیٹھ کر نماز پڑھنے سے ہے جب انسان بغیر عذر بیٹھ کر نماز به ر عذر بیٹھ کر نماز پڑھے۔ مذا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب سے پایا جاتا ہے کہ آپ کے فتوے کا و جو کھڑا ہو سکتا ہے اور پھر بیٹھ کر نماز پڑھتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مطلق فتوی بیان کر دیا ہے۔ اُس کے مطابق ہر شخص اپنی استطاعت یا عدم استطاعت کا بہتر اندازہ کر سکتا ہے۔