صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 501
البخاری جلد ٢ ۵۰۱ ۱ - كتاب تقصير الصلاة يُسَلِّمُ وَلَا يُسَبِّحُ بَيْنَهُمَا بِرَكْعَةٍ وَلَا رَکھتیں ( نماز ) پڑھ کر سلام پھیرتے اور نہ ان کے بَعْدَ الْعِشَاءِ بِسَجْدَةٍ حَتَّى يَقُوْمَ مِنْ درمیان کوئی رکعت نفل پڑھتے اور نہ عشاء کے بعد کوئی سجدہ کرتے۔پھر آدھی رات کو اٹھتے۔جَوْفِ اللَّيْل۔اطرافه: ۱۰۹۱، ۱۰۹۲، ١١٠٦، ١٦٦٨، ١٦٧٣، ١٨٠٥، ٣٠٠٠۔۱۱۱۰: حَدَّثَنَا إِسْحَاق حَدَّثَنَا ۱۱۱۰ اسحق بن منصور ) نے ہم سے بیان کیا کہ عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَرْبٌ حَدَّثَنَا عبد الصمد بن عبد الوارث ) نے ہمیں بتایا۔( کہا : ) يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ حرب ( بن شداد ) نے ہم سے بیان کیا۔(انہوں أَنَسٍ أَنَّ أَنسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ نے کہا: ) کي ( بن ابی کثیر ) نے ہم سے بیان کیا، کہا: أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حفص بن عبید اللہ بن انس نے مجھے بتایا کہ حضرت كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ هَاتَيْنِ الصَّلاتَيْن فِي انس رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا: رسول اللہ السَّفَرِ يَعْنِي الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ۔صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں یہ دونوں نمازیں جمع کیا اطرافه: ۱۱۰۸ تشریح کرتے تھے یعنی مغرب اور عشاء۔يُؤذِّنُ اَوْ يُقِيمُ إِذَا جَمَعَ: دارقطنی نے حضرت ابن عمرؓ کے متعلق ایک روایت نقل کی ہے کہ وہ سفر میں تھے۔سواری سے اتر کر تکبیر اقامت کہی اور مغرب اور عشاء جمع کی۔وَكَانَ لَا يُنَادِي لِشَيْ ءٍ مِّنَ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ۔(سنن الدار قطنى كتاب الصلاة باب الجمع بين الصلاتين في السفر، جزء اول صفحه ۳۹۰) یعنی سفر میں کسی نماز کے لئے اذان نہ دیتے تھے۔اس روایت کو مد نظر رکھ کر عنوان باب میں سوال اٹھایا گیا ہے : هَلْ يُؤْذِنُ أو يُقِيمُ۔روایت نمبر ۱۰۹ میں اقامت کی وضاحت تو ہے، اذان کی نہیں۔مگر روایت نمبر 111 میں نہ اقامت کا ذکر ہے نہ اذان کا۔مطلق نماز جمع کرنے کا ذکر ہے جس سے بعض نے یہ استدلال کیا ہے کہ نماز اپنے ارکان و شروط کے ساتھ ہی پڑھی جاسکتی ہے۔(فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۷۵۰)