صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 498
البخاری جلد ۲ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ ۱۸ - كتاب تقصير الصلاة ١١٠٤ : وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي :۱۱۰۴ اور لیٹ (بن سعد ) نے کہا: یونس نے مجھے يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابِ قَالَ حَدَّثَنِي بتایا کہ ابن شہاب سے مروی ہے۔انہوں نے کہا: أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ عبدالله بن عامر بن ربیعہ ) نے مجھ سے بیان کیا کہ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی ان کے باپ نے انہیں بتایا کہ انہوں نے نبی صلی اللہ السُّبْحَةَ بِاللَّيْلِ فِي السَّفَرِ عَلَى ظَهْر عليه وسلم کو دیکھا کہ آپ نے سفر میں اپنی اونٹنی کی پیٹھ پر رات کو نفل پڑھے۔آپ اسی طرف منہ کئے ہوئے رَاحِلَتِهِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ۔اطرافه ۱۰۹۳، ۱۰۹۷۔تھے جدھر اونٹنی آپ کو لئے جارہی تھی۔١١٠٥: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ :۱۱۰۵ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعیب أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری سے روایت کی کہ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ انہوں نے کہا: سالم بن عبد اللہ بن عمر ) نے مجھے اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّی بتایا۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُسَبِّحُ عَلَى ظَهْرٍ رَسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم اپنی اوٹنی کی پیٹھ پرنفل پڑھا رَاحِلَتِهِ حَيْثُ كَانَ وَجْهُهُ يُؤْمِنُ بِرَأْسِهِ کرتے تھے، جدھر بھی آپ کا منہ ہوتا۔(رکوع اور وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ۔سجدہ) سر کے اشارے سے کرتے اور حضرت ابن عمر رضي بھی ایسا ہی کرتے اطرافه: ۹۹۹ ۱۰۰۰، ۱۰۹۵، ۱۰۹۶، ۱۰۹۸۔تشريح : مَنْ تَطَوَّعَ فِي السَّفَرِ فِي غَيْرِ دُبُرِ الصَّلَوَاتِ وَ قَبْلَهَا : سابقہ باب میں جن نوافل کے پڑھنے کی ممانعت ہے۔وہ نماز فریضہ سے پہلے اور اس کے بعد کی سنتیں ہیں۔تہجد ، چاشت اور وتر کے نوافل کی ممانعت نہیں۔نفل پڑھنے سے متعلق تین مذہب ہیں۔بعض فقہاء نے مطلق منع کیا ہے اور بعض نے علی الاطلاق جواز کا فتویٰ دیا ہے اور کہا ہے کہ نوافل پڑھنا اختیاری امر ہے اور بعض نے نماز فریضہ کے نوافل اور دیگر نوافل کے درمیان فرق کیا ہے۔(فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۷۴۷ )