صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 497 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 497

صحيح البخاری جلد ۲ ۴۹۷ ۱۸ - كتاب تقصير الصلاة کا آخری نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اعمال صالحہ کا دائرہ خود بخود تنگ ہو جاتا ہے۔ ثواب دراصل اطاعت الہی میں ہے۔ امام مسلم کی روایت میں حضرت ابن عمر کے اس سفر کا واقعہ حفص بن عاصم سے بایں الفاظ بایں الفاظ منقول ہے: صحبت ابْنَ عُمَرَ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ فَصَلَّى لَنَا الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَقْبَلَ وَأَقْبَلْنَا مَعَهُ حَتَّى جَاءَ رَحْلَهُ وَجَلَسَ وَجَلَسْنَا مَعَهُ فَحَانَتْ مِنْهُ الْتِفَاتَةٌ ۔ فَرَأَى نَاسًا قِيَامًا فَقَالَ مَا يَصْنَعُ هَؤُلَاءِ قُلْتُ يُسَبِّحُوْنَ قَالَ لَوْ كُنتُ مُسَبِّحًا لَا تُمَمْتُ صَلَاتِي (مسلم کتاب صلوة المسافرين وقصرها ۔ باب صلاة المسافرين وقصرها) یعنی میں حضرت ابن عمر کے ساتھ مکہ کے ایک سفر میں تھا تو انہوں نے ہمیں ظہر دو رکعت پڑھائی ۔ پھر وہ آئے اور ہم بھی ان کے ساتھ آئے یہاں تک کہ وہ اپنے ٹھکانے پر پہنچے اور ہم ان کے ساتھ بیٹھے انہوں نے مڑ کر جو دیکھا نے انے مڑ کر جو دیکھا تو کچھ لوگوں کو بحالت قیام پایا اور پوچھا یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: نفل پڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: اگر میں ( بحالتِ سفر ) نفل ضروری سمجھتا تو یقینا ( انہیں پڑھ کر ) نماز پوری کرتا ۔ بَاب ۱۲ : مَنْ تَطَوَّعَ فِي السَّفَرِ فِي غَيْرِ دُبُرِ الصَّلَوَاتِ وَقَبْلَهَا جس نے سفر میں فرض نمازوں کے بعد اور ان سے پہلے کے علاوہ کسی وقت میں نفل پڑھے وَرَكَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں فجر کی دو سنتیں بھی رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ فِي السَّفَرِ۔ پڑھیں۔ ١١٠٣: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ۱۱۰۳: حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعبہ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرٍو عَنِ ابْنِ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو ( بن مرہ) سے، عمرو أَبِي لَيْلَى قَالَ مَا أَنْبَأَنَا أَحَدٌ أَنَّهُ رَأَى نے ابن ابی لیلیٰ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی ہمیں کسی نے نہیں بتایا کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم الضُّحَى غَيْرُ أُمَ هَانِي ذَكَرَتْ أَنَّ النَّبِيَّ کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا ہو، سوائے حضر رائے حضرت ام صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ بِانی کے جو ذکر کرتی تھیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح اغْتَسَلَ فِي بَيْتِهَا فَصَلَّى ثَمَانِ مکہ کے دن اُن کے گھر غسل فرمایا اور آٹھ رکعتیں رَكَعَاتٍ فَمَا رَأَيْتُهُ صَلَّى صَلَاةً أَخَفَّ پڑھیں۔ میں نے آپ کو کبھی نہیں دیکھا کہ اس سے مِنْهَا غَيْرَ أَنَّهُ يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُوْدَ۔ یکی نماز پڑھی ہو مگر آپ رکوع اور سجود پورا کرتے۔ اطرافه: ١١٧٦، ٤٢٩٢۔