صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 35
صحیح البخاری جلد ۲ ۳۵ ١٠ - كتاب الأذان بَاب ۲۱ : لَا يَسْعَى إِلَى الصَّلَاةِ وَلْيَأْتِ بِالسَّكِينَةِ وَالْوَقَارِ نماز کی طرف دوڑ کر نہ آئے بلکہ سکینت اور وقار سے آئے اور جو ہم سے رہ وَقَالَ مَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوْا وَمَا فَاتَكُمْ اور فرمایا: جو رکعت تم پالوا سے پڑھو اور جو تم فَأَتِمُّوْا وَقَالَهُ أَبُو قَتَادَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى جائے وہ پوری کر لو۔ حضرت ابو قتادہ نے نبی صلی اللہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ۔ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ ٦٣٦ : حَدَّثَنَا آدَمُ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ ۶۳۶ : آدم نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابن ابی ذئب أَبِي ذِنْبِ قَالَ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ نے ہم سے بیان کیا، کہا: زہری نے ہمیں بتایا۔ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ انہوں نے سعید بن مسیب سے، سعید نے حضرت النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ ابوہریرہ سے حضرت ابوہریرہ - رت ابو ہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔۔۔ وَعَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي اور زہری سے مروی ہے کہ انہوں نے ابوسلمہ سے، هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابوسلمہ نے حضرت ابو ہریرہ سے، حضرت ابو ہریرہ نے قَالَ إِذَا سَمِعْتُمُ الْإِقَامَةَ فَامْشُوا إِلَى نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ آپ نے فرمایا: الصَّلَاةِ وَعَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ وَالْوَقَارِ جب تم تكبير اقامت سنو تو نماز کے لئے چلے آؤ اور وَلَا تُسْرِعُوْا فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا اطمینان اور وقار کو اپنا شیوہ بناؤ اور تم جلدی نہ کیا کرو۔ جو رکعت تم پالو وہ پڑھ لو اور جو تم سے رہ جائے اسے فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا ۔ اطرافه: ۹۰۸ پورا کر لو۔ تشری۔ وَالْيَأْتِ بِالسَّكِينَةِ وَالْوَقَار: لفظ سکینت کا تعلق اعضاء جسم کے حرکات وافعال : باطمینان ظاہر ہونے سے ہے اور وقار کا تعلق ہیئت اور وضع سے۔ مثلاً غض بصر یعنی خوابیدہ نگاہی، غض صوت یعنی نرم آہنگی وغیرہ۔ انسان کے ظاہری حرکات اور اس کی وضع قطع اس کے روحانی حالات پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ اس لئے شارع اسلام علیہ الصلوۃ والسلام نے جسمانی حرکات میں ضبط و احتیاط کی تاکید فرمائی ہے۔ جو شخص ایک رکعت پانے کے لئے جلدی جلدی وضو کرے گا یا تیزی سے چلے گا۔ اس کے اندر سکون واطمینان کی حالت نہیں رہے گی۔