صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 491
صحيح البخاری جلد ۲ ۱۸ - كتاب تقصير الصلاة الْمَغْرِبَ فَيُصَلَّيْهَا ثَلَاثًا ثُمَّ يُسَلِّمُ ثُمَّ جب آپ کو جلدی سفر کرنا ہوتا تو نماز مغرب میں تاخیر قَلَّمَا يَلْبَتُ حَتَّى يُقِيْمَ الْعِشَاءَ فَيُصَلَّيْهَا کرتے اور تین رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیتے۔پھر رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ يُسَلَّمُ وَلَا يُسَبِّحُ بَعْدَ تھوڑی دیر ٹھہر کر عشاء کی نماز کے لئے اقامت کہلواتے الْعِشَاءِ حَتَّى يَقُوْمَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ اور اس کی دورکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیتے اور عشاء کے بعد نفل نہ پڑھتے۔پھر آدھی رات کو اٹھتے۔اطرافه: ۱۰۹۱، ۱۱۰۶، 11۰۹، 1668، 1673، 1805، 3000۔تشريح : يُصَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا فِي السفر : روایت نمبر ۸ میں گذر چکاہے کہ بی صل اللہ علیہ ولی سفر میں نماز دو دورکعت پڑھتے تھے۔اس کے یہ معنے نہیں کہ ساری نماز میں دو دو رکعت پڑھی جاتی تھیں۔مسند احمد بن حنبل میں حضرت ابن عمر کا جو قول مروی ہے اس میں اِلَّا صَلاةَ الْمَغْرِبِ کی استثناء کا صریح ذکر ہے۔( مسند احمد بن حنبل جزء ثانی صفحه ۸۳) یعنی نماز مغرب کے سوا باقی نمازیں دو دورکعت پڑھتے تھے۔عنوان باب میں یہی غلط منہمی دور کی گئی ہے۔بَاب : صَلَاةُ التَّطَوُّعِ عَلَى الدَّوَّاتِ وَحَيْتُمَا تَوَجَّهَتْ بِهِ سواری پر نفل کی نماز پڑھتا، اس کا منہ جس طرف بھی ہو ۱۰۹۳: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ۱۰۹۳ علی بن عبداللہ ( مدینی) نے ہم سے بیان کیا، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا کہا: عبدالاعلیٰ نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: معمر مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بن نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری سے، زہری نے عبداللہ عَامِرٍ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيِّ صَلَّى بن عامر سے، انہوں نے اپنے باپ (حضرت عامر بن ربیعہ) سے روایت کی۔انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔آپ اپنی اونٹنی پر ادھر ہی منہ کئے حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ۔اطرافه: ۱۰۹۷، ١١٠٤ - ہوئے نماز پڑھ رہے تھے جدھر وہ آپ کو لئے جارہی تھی۔١٠٩٤: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ :۱۰۹۴ ابونعیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: شیبان حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى عَنْ مُّحَمَّدِ بْن (نحوی) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سیمی سے بچی نے فتح الباری مطبوعہ بولاق میں لفظ " الدَّواتِ کی بجائے الدابة" ہے۔(فتح الباری جزء ثانی حاشیہ صفحہ ۷۴۰ )