صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 492
صحيح البخاری جلد ۲ ۴۹۲ ۱۸ - كتاب تقصير الصلاة عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ محمد بن عبد الرحمن سے روایت کی کہ حضرت جابر بن أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عبدالله (انصاری) نے انہیں خبر دی کہ نبی صلی اللہ كَانَ يُصَلِّي التَّطَوُّعَ وَهُوَ رَاكِبٌ فِي عليه وسلم نفل پڑھتے تھے، جبکہ آپ سوار ہوتے ، قبلہ غَيْرِ الْقِبْلَةِ۔اطرافه ٤٠٠، ١٠٩٩، ٤١٤٠۔رُخ نہ ہوتے۔١٠٩٥: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ :۱۰۹۵ ہم سے عبدالاعلیٰ بن حماد نے بیان کیا، کہا: حَمَّادٍ قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ قَالَ حَدَّثَنَا وهيب ( بن خالد ) نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعِ قَالَ كَانَ کہا: موسیٰ بن عقبہ نے ہمیں بتایا۔نافع سے مروی ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُصَلِّي عَلَى ہے۔انہوں نے کہا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما رَاحِلَتِهِ وَيُوْتِرُ عَلَيْهَا وَيُخبِرُ أَنَّ النَّبِيِّ اپنی اونٹنی پر نفل پڑھا کرتے اور اسی پر وتر پڑھتے اور صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ۔بتاتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا ہی کیا اطرافه: ۹۹۹ کرتے تھے۔۱۱۰۵ ،۱۰۹۸ ،۱۰۹۶ ،۱۰۰ تشریح: ہے۔اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ نفل بھی نہ پڑھے جائیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں اپنی سواری کی پیٹھ پر نفل پڑھا کرتے تھے۔قصر کا تعلق صرف نماز فرض کے ساتھ ہے نفل پڑھنے یا نہ پڑھنے میں انسان مختار ہے۔بَابِ ۸: الْإِيْمَاءُ عَلَى الدَّابَّة صَلَاةُ التَّطَوُّع عَلَى الدَّوَاتِ حَيْثُمَا تَوَجَّهَتْ بِهِ : سر میں نماز قصر کرنے کا حکم سواری پر اشارے سے نماز پڑھنا ١٠٩٦: حَدَّثَنَا مُوسَى قَالَ :١٠٩۶ موسیٰ ( بن اسماعیل) نے ہم سے بیان کیا، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ کہا: عبد العزیز بن مسلم نے ہم سے بیان کیا۔انہوں حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ دِينَارٍ قَالَ نے کہا: عبداللہ بن دینار نے ہمیں بتایا، کہا: حضرت كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما سفر میں اپنی اونٹنی پر نماز