صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 485
صحيح البخاری جلد ۲ ۴۸۵ ۱۸ - كتاب تقصير الصلاة الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمِنِّى رَكْعَتَيْنِ کے ساتھ بھی منی میں دورکعتیں پڑھیں۔ کاش ! مجھے فَلَيْتَ حَظِي مِنْ أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ ان چار رکعتوں کے بدلے میں دو مقبول رکعتیں رَكْعَتَانِ مُتَقَبَّلَتَانِ۔ اطرافه: ١٦٥٧ نصیب ہوں۔ تشريح : الصَّلَاةُ بمنی: مقام منی میں قصر کرنے کی نسبت اختلاف ہوا ہے۔ آیا ہے ہوا ہے۔ آیا یہ قصر سفر کی وجہ سے ہے یا قربانی کی وجہ سے؟ ی وجہ سے؟ امام مالک اور امام اوزاعی کا مذہب ہے کہ قصر قربانی کی وجہ سے تھی کی وجہ سے تھی اور اسی لئے منی کے رہنے والے بھی قصر کریں اور اہل مکہ بھی۔ لیکن امام ابو حنیفہ اور امام شافعی وہاں کے باشندوں کے لئے قصر جائز نہیں سمجھتے بلکہ انہیں پوری نماز پڑھنی چاہیے۔ ( فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۷۲۷ ) (عمدۃ القاری جزءے صفحہ ۱۱۸ ۱۱۹) حضرت عثمان کی بابت روایت نمبر ۱۹۸۴۱۰۸۲ میں یہ جو مروی ہے کہ وہ چار رکعتیں پڑھتے تھے، بعض کے نزدیک اس کا تعلق اقامت ۔ اس کا تعلق اقامت سے ہے۔ جب وہ مناسک حج سے فارغ ہونے کے بعد مقام منی میں مقیم ہوتے تو پوری نماز پڑھتے ۔ روایت نمبر ۱۰۹۰ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ کے نزدیک سفر میں قصر ضروری نہیں بلکہ بطور وسعت واجازت ہے اور یہی مذہب حضرت عثمان کا تھا۔ مزید تشریح کے لیے دیکھئے کتاب الحج باب ۸۴ ۔ بَاب : كَمْ أَقَامَ النَّبِيُّ ﷺ فِي حَجَّتِهِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج میں کتنے دن قیام کیا ؟ ١٠٨٥: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ ۱۰۸۵: موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، کہا: إِسْمَاعِيلَ قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ قَالَ وهيب ( بن خالد ) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ عَنِ کہا: ایوب (سختیانی) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ قَدِمَ ابو العالیہ براء سے، براء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ لِصُبْحِ رَابِعَةٍ يُلَبُّوْنَ بِالْحَجِّ فَأَمَرَهُمْ أَن وسلم اور آپ کے صحابہ چوتھی ذوالج کی صبح کو حج کو حج کے لئے يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً إِلَّا مَنْ مَّعَهُ الْهَدْي لبیک پکارتے ہوئے آئے اور آپ نے ان کو حکم دیا کہ (حج) کو عمرہ کر دیں سوائے اس شخص کے جس کے ساتھ تَابَعَهُ عَطَاءٌ عَنْ جَابِرٍ۔ قربانی ہو۔ (ابوالعالیہ کی طرح) عطاء ( بن ابی رباح ) نے بھی حضرت جابر سے یہ روایت کی ہے۔ اطرافه: ١٥٦٤، ٢٥٠٥، ٣٨٣٢۔