صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 486
صحيح البخاری جلد ۲ صلى الله ۴۸۶ ۱۸ - كتاب تقصير الصلاة تشريح : كَمْ أَقَامَ النَّبِيُّ ﷺ فِي حَنه لا اله علی وسلم وتی تاریخ دان کو کہ میںپہنچےاور ذواج آٹھویں مدت قیام ہے جو واپسی تک وہاں ٹھہرنے کی تھی ۔ امام شافعی نے انہی چار دنوں کی اقامت پر قیاس کرتے ہوئے اپنے فتوئی کی بنیاد رکھی ہے۔ (بداية المجتهد۔ كتاب الصلاة الجملة الثالثة۔ الباب الرابع۔ الفصل الأول في القصر) میں تاریخ وہاں سے منی کی طرف گئے ۔ روایت نمبر ۱۰۸۱ میں جو دس دن ٹھہرنے کا ذکر ہے وہ ساری بَاب ٤ : فِي كَمْ يَقْصُرُ الصَّلَاةَ کتنی مسافت میں نماز قصر کرے؟ وَسَمَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن کی مسافت کو بھی يَوْمًا وَلَيْلَةً سَفَرًا وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ وَابْنُ سفر قرار دیا ہے اور حضرت ابن عمر اور حضرت ابن عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ يَقْصُرَانِ عباس رضی اللہ عنہم چار برید کے سفر میں بھی قصر اور وَيُفْطِرَانِ فِي أَرْبَعَةِ بُرُدٍ وَهِيَ سِتَّةَ افطار کرتے تھے اور یہ سولہ فرسخ ( یعنی ۴۸ میل ) عَشَرَ فَرْسَحًا ۔ ہوتے ہیں۔ ١٠٨٦: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ ۱۰۸۶: اسحق بن ابراہیم خظلی نے ہم سے بیان إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي کیا ، کہا: میں نے ابواسامہ سے کہا: عبید اللہ أسَامَةَ حَدَّثَكُمْ عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ (عمری) نے آپ کو بتایا۔ انہوں نے نافع سے، ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُسَافِر کی کہ بی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت تین دن الْمَرْأَةُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ۔ کا سفر بغیر اپنے محرم رشتہ دار نہ کرے۔ اطرافه: ۱۰۸۷۔ ۱۰۸۷ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا ۱۰۸۷ مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: یحی بن سعید يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ قطان) نے ہمیں بتایا۔ عبید اللہ سے مروی ہے۔ انہوں نے عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى نافع سے روایت کی۔ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُسَافِرِ الْمَرْأَةُ ہے، حضرت ابن عمرؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی