صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 478 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 478

صحيح البخاری جلد ۲ MLA ۱۷ - كتاب سجود القرآن أَحَدُنَا لِجَبْهَتِهِ مَوْضِعًا يَسْجُدُ عَلَيْهِ۔میں سے کوئی سجدے کے لئے اپنی پیشانی رکھنے کی اطرافه: ۱۰۷۵، ۱۰۷۹۔جگہ نہ پاتا جس پر وہ سجدہ کرتا۔اِزْدِحَامُ النَّاسِ إِذَا قَرَءَ الْاِمَامُ السَّجُدَةَ : باوجود اس کے کہ سجدہ تلاوت واجب نہیں تشریح مگر صحابہ کا شوق اس سے ظاہر ہے کہ مسجد میں اتنا از دیام کہ بعض کو سجدہ کرنے کی جگہ نہ ملتی تھی۔حَدَّثَنَا بِشْرُ ابْنُ آدَمَ : بشر بن آدم روای بغدادی ہیں۔صحیح بخاری میں ان کی یہی ایک روایت ہے۔ابن عدی کا خیال ہے کہ بشر بن آدم یزید بصری کے بیٹے ہیں جو از ہر السمان کے نواسے ( ابن بنت از ہر ) کی کنیت سے مشہور ہیں نہ کہ بغدادی سے۔( فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۷۱۹ ) بَاب ١٠ : مَنْ رَّأَى أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُوْجِبِ السُّجُوْدَ جس کی یہ رائے ہو کہ اللہ عز وجل نے سجدہ تلاوت واجب نہیں کیا وَقِيلَ لِعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنِ الرَّجُلُ اور حضرت عمران بن حصین سے کہا گیا کہ ایک شخص يَسْمَعُ السَّجْدَةَ وَلَمْ يَجْلِسْ لَهَا قَالَ سجدے کی آیت سنتا ہے اور وہ اس کے سننے کی نیت أَرَأَيْتَ لَوْ قَعَدَ لَهَا كَأَنَّهُ لَا يُوجِبُهُ سے نہیں بیٹھا تھا ( کیا اس کے لئے سجدہ کرنا ضروری عَلَيْهِ وَقَالَ سَلْمَانُ مَا لِهَذَا غَدَوْنَا ہے؟ انہوں نے کہا: بھلا اس نیت سے بیٹھا بھی ہو وَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِنَّمَا (تو کیا ہے؟ ) گویا وہ اس کے لئے سجدہ ضروری قرار السَّجْدَةُ عَلَى مَن اسْتَمَعَهَا وَقَالَ نہیں دیتے تھے اور حضرت سلمان ( فارسی ) نے کہا: الزُّهْرِيُّ لَا يَسْجُدُ إِلَّا أَنْ يَكُوْنَ ہم اس لئے نہیں آئے تھے اور حضرت عثمان رضی اللہ طَاهِرًا فَإِذَا سَجَدْتَ وَأَنتَ فِي عنہ نے کہا: سجدہ صرف اسی پر لازم ہے جو ارادہ اسے حَضَرٍ فَاسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ فَإِنْ كُنْتَ سے اور زہری نے کہا: سجدہ تلاوت نہ کرے مگر اس رَاكِبًا فَلَا عَلَيْكَ حَيْثُ كَانَ وَجْهُكَ حالت میں کہ وہ باوضو ہو اور جب تم سجدہ کرو اور تم متقیم وَكَانَ السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ لَا يَسْجُدُ ہو تو قبلہ کی طرف منہ کرو اور اگر سوار ہو تو کوئی حرج لِسُجُوْدِ الْقَاصِ۔نہیں ، جدھر تمہارا منہ ہو اور سائب بن یزید قصہ خواں کے سجدہ کرنے پر سجدہ نہیں کیا کرتے تھے۔