صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 477 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 477

صحيح البخاری جلد ۲ ۱۷ - كتاب سجود القرآن ١٠٧٥: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا :۱۰۷۵ مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا بچی نے يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللهِ قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ ہم سے بیان کیا۔عبید اللہ سے روایت ہے۔عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ انہوں نے کہا: نافع نے مجھے بتایا۔حضرت ابن عمر كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: نبی عَلَيْنَا السُّوْرَةَ فِيْهَا السَّجْدَةُ فَيَسْجُدُ صلى الله علیہ وسلم ہم کو وہ سورۃ پڑھ کر سناتے جس وَنَسْجُدُ حَتَّى مَا يَجِدُ أَحَدُنَا مَوْضِعَ میں سجدہ ہوتا۔آپ بھی سجدہ کرتے اور ہم بھی سجدہ کرتے۔یہاں تک کہ ہم میں سے کسی کو اپنی اطرافه ۱۰۷٦، ۱۰۷۹ تشریح: پیشانی رکھنے کی جگہ نہ ملتی۔مَنْ سَجَدَ لِسُجُودِ الْقَارِي : امام ابو حنیفہ سننے والے کے لئے بھی سجدہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔خواہ مرد ہو یا عورت۔امام مالک نے دو شرطیں عائد کی ہیں: ایک یہ کہ وہ سننے کی غرض سے بیٹھا ہو اور دوسرے یہ کہ قاری سجدہ کرے ورنہ نہیں۔(بداية المجتهد۔كتاب الصلاة الثاني۔الباب التاسع في سجود القرآن۔فصل على من يتوجه حكمها) اس باب سے ان کے مسلک کی تائید ہوتی ہے۔بَاب ۹ : اِزْدِحَامُ النَّاسِ إِذَا قَرَأَ الْإِمَامُ السَّجْدَةَ لوگوں کا ہجوم جب امام سجدہ کی سورۃ پڑھے ١٠٧٦: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ قَالَ :١٠٧٦ بشر بن آدم نے ہم سے بیان کیا، کہا: علی حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا بن مہر نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: عبید اللہ عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ (عمری) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدے کی آیات پڑھتے اور ہم السَّجْدَةَ وَنَحْنُ عِنْدَهُ فَيَسْجُدُ آپ کے پاس ہوتے۔آپ سجدہ کرتے اور ہم بھی وَنَسْجُدُ مَعَهُ فَنَرْدَحِمُ حَتَّى مَا يَجِدُ آپ کے ساتھ سجدہ کرتے اور اتنی بھیڑ ہوتی کہ ہم