صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 479 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 479

صحيح البخاری جلد ۲ ۴۷۹ ا - كتاب سجود القرآن ۱۰۷۷ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ۱۰۷۷ : ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ أَنَّ ابْنَ ہشام بن یوسف نے ہمیں بتایا کہ (عبدالمالک ) بن جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ جریج نے ان کو خبر دی، کہا: ابوبکر ( عبداللہ ) بن ابی بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ ملیکہ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عثمان بن عبدالرحمن الرَّحْمَنِ التَّيْمِي عَنْ رَّبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ حمی سے، عثمان نے ربیعہ بن عبداللہ بن دیر یمی سے بْنِ الْهُدَيْرِ التَّيْمِيِّ قَالَ أَبُو بَكْرٍ وَكَانَ روایت کی کہ حضرت ابوبکر نے کہا اور ربیعہ اچھے رَبِيعَةُ مِنْ خِيَارِ النَّاسِ عَمَّا حَضَرَ لوگوں میں سے تھے۔ انہوں نے و نے قصہ بیان کیا) جو رَبِيعَةُ مِنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ حضرت عمر بن خطاب خطاب رضی اللہ عنہ ( کی مجلس ) میں عَنْهُ قَرَأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى الْمِنْبَرِ ربیعہ لے وہ نے دیکھا تھا۔ (حضرت عمر) نے جمعہ کے دن منبر پر کھڑے ہو کر سورہ النحل پڑھی۔ جب سجدہ کی بِسُورَةِ النَّحْلِ حَتَّى إِذَا جَاءَ السَّجْدَةَ نَزَلَ فَسَجَدَ وَسَجَدَ النَّاسُ حَتَّى إِذَا آیات پر پہنچے تو وہ اترے اور انہوں نے سجدہ کیا اور لوگوں نے بھی سجدہ کیا۔ جب دوسرا جمعہ ہوا تو حضرت كَانَتِ الْجُمُعَةُ الْقَابِلَةُ قَرَأَ بِهَا حَتَّى إِذَا جَاءَ السَّجْدَةَ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا عمر نے وہی سورۃ پڑھی۔ جب سجدہ کی آیات پر پہنچے تو انہوں نے کہا: لوگو! ہم سجدہ کی آیات سے گذرتے نَمُرُّ بِالسُّجُودِ فَمَنْ سَجَدَ فَقَدْ أَصَابَ وَمَنْ لَّمْ يَسْجُدْ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَلَمْ ہیں۔ سو جس نے سجدہ کیا اس نے اچھا کیا اور جس نے سجدہ نہ کیا اس پر کوئی گناہ نہیں اور حضرت عمر رضی يَسْجُدْ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَزَادَ نَافِعُ اللہ عنہ نے سجدہ نہیں کیا اور نافع نے حضرت ابن عمر عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِنَّ اللَّهَ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے اتنا زیادہ لَمْ يَفْرِضِ السُّجُوْدَ إِلَّا أَنْ نَّشَاءَ۔ بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے سجدہ تلاوت فرض نہیں کیا۔ ہاں اگر ہم چاہیں ( تو سجدہ کر لیں۔) تشريح : مَنْ رَّبِّي أَنَّ اللَّهَ عَزَّوَجَلَّ لَمْ يُرْجِبِ السُّجُودَ : سجدہ تلاوت واجب یا مستون ہونے کے متعلق ائمہ کی رائے باب نمبرا کی تشریح میں گذر چکی ۔ گذر چکی ہے۔ اس میں اسی مسئلہ کا خصوصیت سے ذکر