صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 471
صحيح البخاری جلد ۲ ۴۷۱ ۱۷ - كتاب سجود القرآن ہونے کی نسبت زیادہ سمجھ رکھتے تھے۔(بداية المجتهد۔كتاب الصلاة الثاني۔الباب التاسع في سجود القرآن۔فصل حکم سجود التلاوة) حضرت عمرؓ نے خطبہ جمعہ میں جبکہ صحابہ موجود تھے ، اعلان کیا کہ یہ واجب نہیں ( روایت نمبر ۷ ۱۰۷) اور حضرت زید بن ثابت کی روایت سے معلوم ہوتاہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی سجدہ نہ بھی کرتے تھے۔(روایت نمبر ۱۰۷۳) امام بخاری نے اس امر میں اپنی کسی رائے کا اظہار نہیں کیا۔عنوان باب مصدر یہ رکھا ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی ارشاد اس بارے میں مروی نہیں بصرف عمل ثابت ہے یعنی کبھی آپ نے سجدہ کیا اور کبھی نہ کیا۔اس کی تفصیل باب ۳ کی تشریح میں آرہی ہے۔باب ۲ : سَجْدَةُ تَنْزِيلُ السَّجْدَة سورہ الم تنزیل میں سجدہ کرنا " ١٠٦٨ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ :۱۰۶۸ محمد بن یوسف (فریابی) نے ہم۔حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَعْدِ بْن إِبْرَاهِيمَ بیان کیا، کہا :) سفیان ثوری) نے ہمیں بتایا۔عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ انہوں نے سعد بن ابراہیم سے، سعد نے عبدالرحمن اللهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّی سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْجُمُعَةِ فِي روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ صَلَاةِ الْفَجْرِ الم تَنْزِيلُ السَّجْدَة وَهَلْ کے دن فجر کی نماز میں الم تَنْزِيلُ السَّجدة اور رَضِيَ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ۔اطرافه: ۸۹۱ هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ پڑھا کرتے تھے۔بَاب ۳ : سَجْدَةُ صَ سورۃ ص میں سجدہ کرنا ١٠٦٩ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْب :۱۰۶۹ سلیمان بن حرب اور ابونعمان (محمد بن وَأَبُو النُّعْمَانِ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ (فضل) نے ہم سے بیان کیا۔دونوں نے کہا: حماد بَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ ابْنِ عَبَّاس (بن زید ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ایوب سے، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ ص لَيْسَ مِنْ ایوب نے عکرمہ سے عکرمہ نے حضرت ابن عباس عَزَائِمِ السُّجُوْدِ وَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔انہوں نے کہا کہ سورۃ