صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 470
صحيح البخاری جلد ۲ ۱۷ - كتاب سجود القرآن بالله الحالي ١٧ - كِتَابُ سُجُودِ الْقُرْآنِ باب ۱ : مَا جَاءَ فِي سُجُوْدِ الْقُرْآنِ وَسُنَّتِهَا سجدہ تلاوت اور اس کا مسنون ہونا ١٠٦٧: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ١٠٦٧: محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا، کہا: غندر قَالَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ ( محمد بن جعفر) نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْأَسْوَدَ عَنْ شعبہ نے ابو اسحق سے روایت کرتے ہوئے ہمیں عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَرَأَ النَّبِيُّ بتایا، کہا: میں نے اسود ( بن یزید ) کو حضرت عبداللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّجْمَ بِمَكَّةَ (بن مسعود ) رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے سنا کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں مِنْ حَصَى أَوْ تُرَابِ فَرَفَعَةً سورہ نجم پڑھی اور اس میں سجدہ کیا اور جو آپ کے فَسَجَدَ فِيْهَا وَسَجَدَ مَنْ مَّعَهُ غَيْرَ شَيْخ أَخَذَ كَفَّا مِنْ حَصَى ساتھ تھے انہوں نے بھی سجدہ کیا، سوائے ایک إِلَى جَبْهَتِهِ وَقَالَ يَكْفِيْنِي هَذَا فَرَأَيْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ قُتِلَ كَافِرًا۔اطرافه ،۱۰۷۰ ، ۳۸۵۳، ۳۹۷۲، ٤٨٦٣۔بوڑھے کے۔( یہ امیہ بن خلف تھا۔) اس نے ایک مٹھی بھر کنکریاں یا مٹی کی اور پیشانی نمک اسے اٹھایا اور کہا: مجھے یہی کافی ہے۔اس کے بعد میں نے اس کو دیکھا وہ بحالت کفر ہی قتل ہوا۔شریح : مَا جَاءَ فِي سُجُودِ الْقُرْآن قرآن مجید کی بعض سورتوں میں سجدہ کرنے کا حکم بصیغہ امر وارد ہے۔ایسے موقعوں پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی سنت تھی کہ آپ حکم الہی سن کر سر بسجو د ہو جاتے۔اس سجدہ کو سجدہ تلاوت کہتے ہیں۔امام ابوحنیفہ اور ان کے ہم مذہب اس سجدہ کو واجب قرار دیتے ہیں۔حکم کی تعمیل لازمی ہوتی ہے مگر امام مالک اور امام شافعی کے نزدیک یہ سجدہ مسنون ہے، واجب نہیں۔ان کی دلیل یہ ہے کہ صحابہ اوامر شرعیہ کے واجب ہونے یا نہ