صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 472
صحيح البخاری جلد ۲ ا - كتاب سجود القرآن صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ فِيْهَا۔ص ( کا سجدہ) ان سجدوں میں سے نہیں ہے جن کے بارے میں تاکید ہے مگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں سجدہ کرتے دیکھا ہے۔اطرافه: ٣٤٢٢۔تشریح : سَجْدَةُ تَنْزِيلُ السَّجْدَةِ وَسَجْدَةً ص : سَجْدَةُ تَنْزِيلُ السَّجْدَةِ وَسَجُدَةُ ص : سجدہ تلاوت سے متعلق دوسری بحث یہ ہے کہ آیا ان آیات کی تلاوت سے متعلق بھی سجدہ کرنا مسنون ہے جو بصیغہ امر نہیں بلکہ بطور جملہ خبریہ ہے۔مثلاً الم تنزیل میں یہ آیت ہے: إِنَّمَا يُؤْمِنُ بِايْتِنَا الَّذِينَ إِذَا ذُكِرُوا بِهَا خَرُّوا سُجَّدًا وَّسَبِّحُوا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ ( الم سجده : ١٩) یقینا ہماری آیات پر وہی لوگ ایمان لاتے ہیں کہ جب ان (آیات) کے ذریعہ انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدہ کرتے ہوئے گر جاتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ (اس کی تسبیح کرتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔اسی طرح سورۃ اص میں یہ آیت ہے: فَاسْتَغْفَرَرَبَّهُ وَخَرَّ رَاكِعًا وَأَنَابَ (ص:۲۵) { پس اس نے اپنے رب سے بخشش مانگی اور عجز کرتے ہوئے گر پڑا اور تو بہ کی۔ایسے سجدات تلاوت ان سجدوں میں سے نہیں جن کی بابت تاکید ہے۔( روایت نمبر ۱۰۶۹) اس لئے کبھی آپ نے ایسی آیات پر سجدہ کیا اور کبھی نہیں کیا۔روایت نمبر ۲ ۱۰۷ میں بھی سجدہ کرنے کا ذکر نہیں۔بَاب ٤ : سَجْدَةُ النَّجْمِ سورۃ النجم میں سجدہ کرنا قَالَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ اس کو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہمانے نبی صلی اللہ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے نقل کیا ہے۔۱۰۷۰: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ :١٠٧٠ حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعبہ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَن نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابواسحق سے، ابو اسحق نے الْأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ اسود سے، اسود نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود ) النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ سُوْرَةَ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے النَّجْمِ فَسَجَدَ بِهَا فَمَا بَقِيَ أَحَدٌ مِنَ سورة نجم پڑھی اور اس میں سجدہ کیا۔لوگوں میں سے الْقَوْمِ إِلَّا سَجَدَ فَأَخَذَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ کوئی باقی نہ رہا جس نے سجدہ نہ کیا ہو۔ان میں سے