صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 465 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 465

صحيح البخاری جلد ۲ ۴۶۵ ١٦ - كتاب الكسوف باب ١٦ : قَوْلُ الْإِمَام فِي خَطْبَةِ الْكُسُوفَ أَمَّا بَعْدُ سورج گرہن کے خطبہ میں امام کا اَمَّا بَعْدُ کہنا ١٠٦١ وَقَالَ أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا :۱۰۶۱ اور ابواسامہ نے کہا: ہشام ( بن عروہ) نے هِشَامٌ قَالَ أَخْبَرَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ ہم سے بیان کیا، کہا: فاطمہ بنت منذر ( ان کی بی بی ) الْمُنْذِرِ عَنْ أَسْمَاءَ قَالَتْ فَانْصَرَفَ نے حضرت اسماء سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ کہ وہ کہتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (نماز تَجَلَّتِ الشَّمْسُ فَخَطَبَ فَحَمِدَ الله سے فارغ ہوئے اور سورج روشن ہو گیا تھا۔آپ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ۔( لوگوں سے مخاطب ہوئے اور جس تعریف کا وہ سزاوار ہے ویسی اللہ کی تعریف کی پھر فرمایا: اَمَّا بَعْدُ۔اطرافه: ٨٦ ۱۸٤، ۱۰۵۳، ۱۰۵۱، ۱۲۳۵ ، ۱۳۷۳ ، ۲۰۱۹، ۲۰۲۰، ۷۲۸۷ فریح: قَوْلُ الْإِمَامِ فِى خُطْبَةِ الْكُسُوفِ اَمَّا بَعْدُ : ائمہ مذاہب کے درمیان نماز کسوف کے خطبہ کی بابت جو اختلاف ہے وہ باب کی تشریح میں بیان کیا جا چکا ہے اور اَمَّا بَعْدُ کے استعمال کرنے یا نہ کرنے سے متعلق کتاب الجمعۃ باب ۲۹ کی تشریح میں امام بخاری کی رائے گذر چکی ہے۔باب ۱۷ : اَلصَّلَاةُ فِي كُسُوْفِ الْقَمَرِ چاند گرہن میں نماز پڑھنا ١٠٦٢: حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ قَالَ ۱۰۶۲ محمود ( بن غیلان) نے ہم سے بیان کیا، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ کہا: سعيد بن عامر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے شعبہ يُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ سے شعبہ نے یونس سے، یونس نے حسن (بصری) رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ الكَسَفَتِ الشَّمْسُ سے، انہوں نے حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے عَلَى عَهْدِ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ روایت کی۔وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وَسَلَّمَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ۔کے زمانے میں سورج گرہن ہوا اور آپ نے اطرافه: ۱۰٤۰ ، ١٠٤۸، ١٠٦٣، ٥٧٨٥ دورکعتیں پڑھیں۔