صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 464
صحيح البخاری جلد ۲ وام ۶ سهام ١٦ - كتاب الكسوف باب ١٥ : الدُّعَاءُ فِي الْخُسُوفِ سورج گرہن کے وقت دعا کرنا قَالَهُ أَبُو مُوسَى وَعَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا حضرت ابوموسیٰ اشعری ) اور حضرت عائشہ رضی اللہ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ عنہما نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نقل کیا ہے۔ ١٠٦٠: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ قَالَ ۱۰۶۰: ابو ولید (طیالسی) نے ہم سے بیان کیا، کہا: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ قَالَ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ زائده ( بن قدامہ ) نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے عِلَاقَةَ قَالَ سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ کہا: زیاد بن علاقہ نے ہمیں بتایا، کہا: میں نے يَقُوْلُ الْكَسَفَتِ الشَّمْسُ يَوْمَ مَاتَ حضرت مغیرہ بن شعبہ کو کہتے سنا کہ جس دن حضرت إِبْرَاهِيمُ فَقَالَ النَّاسُ الكَسَفَتْ لِمَوْتِ ابراہیم فوت ہوئے ، سورج گرہن ہوا ۔ لوگوں نے إِبْرَاهِيمَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله کہا : حضرت ابراہیم کی موت کی وجہ سے (سورج) عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ گرہن ہوا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ سورج اور چاند اللہ تعالی کے نشانوں میں سے دونشان وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَادْعُوا الله ہیں ۔ کسی کے مرنے اور جینے سے یہ گرہن نہیں ہوا وَصَلُّوْا حَتَّى يَنْجَلِي۔ اطرافه: ١٠٤٣، ٦١٩٩۔ کرتے۔ سو جب تم گرہن دیکھو تو اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرو اور نماز پڑھو یہاں تک کہ ( گرہن ) دور ہو جائے۔ تشريح : الدُّعَاءُ فِي الْخُسُوفِ : سوال اٹھایاگیاہے کہ آیا یہ کر اور دائمی نماز سے علاوہ ہیں؟ روایت نمبر ۱۰۴۴ میں جو کہ حضرت عائشہؓ سے مروی ہے۔ نماز پڑھنے اور دعا کرنے کا الگ الگ ذکر ہے۔ جبکہ حضرت ابو موسیٰ اشعری کی روایت نمبر ۱۰۵۹ میں استدلالاً ذکر ہے۔ انہی روایتوں کی طرف عنوان باب میں اشارہ کیا گیا ہے۔ اسلام کا آفتاب جو ایک زمانہ سے حالت کسوف میں ہے۔ اس کا گرہن دور ہونے کے لئے بھی تمام مسلمانوں کو خصوصیت سے دعائیں کرنی چاہئیں۔