صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 466
عَن حيح البخاری جلد ۲ ١٦ - كتاب الكسوف ١٠٦٣: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ قَالَ :١٠٦٣ ابو معمر نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبدالوارث حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: ہمیں یونس نے الْحَسَنِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ بتایا۔حسن (بصری) سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ ابوبکرہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ يَجُرُّ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن ہوا۔آپ چادر گھسیٹتے رِدَاءَهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْمَسْجِدِ ہوئے باہر آئے۔مسجد میں پہنچے اور لوگ بھی ادھر ادھر سے وَثَابَ النَّاسُ إِلَيْهِ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ آپ کے پاس جمع ہو گئے۔آپ نے ان کو دو رکعت نماز فَالْجَلَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ إِنَّ الشَّمْسَ پڑھائی۔اتنے میں سورج روشن ہو گیا۔آپ نے فرمایا: وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ وَإِنَّهُمَا لَا سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کے نشانوں میں سے دو نشان ہیں يَحْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَإِذَا كَانَ ذَاكَ اور وہ کسی کی موت کی وجہ سے نہیں گہناتے۔سو جب یہ ہوتو فَصَلُّوْا وَادْعُوْا حَتَّى يُكْشَفَ مَا بِكُمْ نماز پڑھو، دعائیں کرو۔یہاں تک کہ وہ حالت جو تم پر وَذَاكَ أَنَّ ابْنَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ طاری ہے دور ہو جائے۔یہ اس لئے فرمایا تھا کہ نبی صلی وَسَلَّمَ مَاتَ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ فَقَالَ اللہ علیہ وسلم کا ایک بیٹا فوت ہو گیا تھا جسے ابراہیم کہتے النَّاسُ فِي ذَاكَ۔تھے۔لوگ کہنے لگے: ان کی وفات کی ) وجہ سے ( گرہن ہوا ہے۔) اطرافه: ۱۰٤۰، ۱۰٤۸، ١٠٦٢، ٥٧٨٥۔تشریح : الصَّلَاةُ فِى كُسُوفِ الْقَمَرِ : چاندگرہن میں نماز پڑھنے کی نبت فقہاء میں اختلاف ہوا ہے۔امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کے نزدیک اس میں اسی طرح باجماعت نماز پڑھی جانی چاہیے۔جس طرح سورج گرہن میں اور امام مالک اور امام ابوحنیفہ کا یہ مذہب ہے کہ با جماعت نہیں بلکہ الگ الگ نمازیں پڑھی جائیں کیونکہ چاند گرہن کی نماز باجماعت پڑھنے کے بارے میں کوئی حدیث مروی نہیں۔(بداية الـمـجـتـهـد۔كتــاب الـصـلاة الثاني الباب السادس في صلاة الكسوف المسئلة الخامسة في كسوف القمر حالانکہ بسبب دوران قمری خسوف زیادہ ہوتا ہے اور قیاس ہے کہ چاند گرہن بھی آپ کے زمانے میں ہوا ہو اور آپ کے حکم کی تعمیل کہ سورج اور چاند گرہن میں نماز پڑھی جائے جو کم از کم صورت میں یعنی نفل بغیر جماعت سے بھی ہو جاتی ہے۔امام بخاری ، امام شافعی کے مذہب کی تائید میں معلوم ہوتے ہیں۔سورج گرہن سے متعلق تو ثابت ہے کہ آپ نے