صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 457
صحیح البخاری جلد ۲ ۴۵۷ ١٦ - كتاب الكسوف تشريح : أَنَّكُمْ تَفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ مِثْلَ أَوْ قَرِيبًا مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ : اس روایت کے الفاظ وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ مِثْلَ أَوْ قَرِيبًا مِّنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ سے مندرجہ بالا کشف کے مضمون کی مزید تائید ہوتی ہے۔ بحالتِ نماز خسوف آپ کو جنت و جہنم کا کشفی نظارہ دکھایا جانا اور پھر آپ کو وحی ہونا که تیری امت کے لئے جس فتنہ دجال میں مبتلا ہونا مقدر ہے، اس فتنے کے قریب قریب قبروں میں بھی ایک آزمائش ہو گی۔ جس سے مومن و منافق کے درمیان تمیز ہو جائے گی ۔ اگر چہ دونوں آزمائشیں نتیجہ اپنی نوعیت میں ایک ہیں مگر جدا گانہ صورت و شکل رکھتی ہیں۔ دجال کے زمانہ میں مسلمان جسمانی وروحانی نعمتوں سے بوجہ ان کی ناشکری کے محروم کر دیئے جائیں گے۔ دجال ان کے سامنے اپنی ایک جنت پیش کرے گا جو حقیقت میں دوزخ ہو گی اور انہیں دوزخ کی دھمکی دے گا جو در حقیقت جنت ہوگی ۔ اس وقت صرف مومن ہی اس کڑی آزمائش میں پورا اُترے گا۔ دنیا کی اس آزمائش پر قبروں والی آزمائش کا قیاس کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ دجالی آزمائش کا تلخ تجربہ کیا جا چکا ہے۔ اس تعلق میں باب نمبر ۱۴ کی تشریح بھی دیکھئے نیز اسلامی اصول کی فلاسفی دوسرے سوال کا جواب صفحه ۸۲ تا ۹۸ - روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحہ ۳۹۶ تا ۴۱۲ بھی دیکھئے۔ يَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ : عورتوں کی ناشکری کی وجہ سے ان کے دوزخ میں سزا پانے سے متعلق دیکھئے کتاب الایمان تشریح باب ۲۱ روایت نمبر ۲۹ صَلَاةُ النِّسَاءِ مَعَ الرِّجَالِ فِي الْكُسُوفِ : سفیان ثوری اور بعض کو فیوں کا یہ مذہب ہے کہ عورتیں گرہن کے وقت اپنے طور پر علیحدہ علیحدہ نماز پڑھیں ۔ مدونہ میں لکھا ہے: تُصَلّى الْمَرْأَةُ فِي بَيْتِهَا وَتَخْرُجُ الْمُتَجَالَة عورت اپنے گھر میں نماز پڑھے اور پردہ دار مسجد میں جاسکتی ہے۔ امام شافعی کا قول ہے: يَخْرُجُ الْجَمِيعُ إِلَّا مَنْ كَانَتْ بَارِعَةَ الْجَمَالِ یعنی عورتیں گرہن کی نماز کے وقت مسجد جا سکتی ہیں سوائے حسین عورت کے۔ ( فتح الباری جزء ثانی صفحه ا۷۰ ) باب مذکور میں اس خیال کا رد کرنا مقصود ہے کہ عورتیں بلا استثناء مسلمانوں کی مشترکہ عبادات اور ان کے اجتماعی کاموں میں شریک ہوا کرتی تھیں اور مسئلہ حجاب ان کے لیے روک نہ تھا۔ اس سے پہلے بھی یہ امر واضح کیا جا چکا ہے ۔ دیکھئے تشریح کتاب الجمعۃ باب ۲۹ اور تشریح باب ۱۲ نیز کتاب العیدین باب ۱۵ و ۱۶۔ اس موقع پر صرف حضرت عائشہ اور حضرت اسماء ہی با جماعت میں شریک نہیں ہوئیں بلکہ اور عورتیں بھی تھیں اور انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے حجروں میں نماز نہیں پڑھی بلکہ مسجد میں پڑھی تھی ۔ دیکھئے تشریح باب ۱۲۔