صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 458 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 458

صحیح البخاری جلد ۲ ۴۵۸ ١٦ - كتاب الكسوف بَاب ۱۱ : مَنْ أَحَبَّ الْعَتَاقَةَ فِي كُسُوْفِ الشَّمْسِ جس نے سورج گرہن میں غلام آزاد کرنا پسند کیا ١٠٥٤: حَدَّثَنَا رَبِيعُ بْنُ يَحْيَى :۱۰۵۴: ربيع بن یحی نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ زائدہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ ) سے، فاطمه فَاطِمَةَ عَنْ أَسْمَاءَ قَالَتْ لَقَدْ أَمَرَ النَّبِيُّ ہشام نے فاطمہ بنت منذر ) سے، فام صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَتَاقَةِ فِي نے حضرت اسماء سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: كُسُوْفِ الشَّمْسِ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن میں غلام آزاد کرنے کا حکم دیا۔ اطرافه: ٨٦، ۱٨٤ ، ۱۰۵۳ ، ۱۲۳۵، ۱۳۷۳ ، ۲۵۱۹، ٢٥٢٠، ٧٢٨٧۔ تشريح : مَنْ أَحَبَّ الْعَنَاقَةَ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ : روایت نمبر ۱۰۵۰ کتاب العتق میں بھی ایک دوسری سند سے مروی ہے۔ وہاں یہ الفاظ ہیں : كُنَّا نُؤْمَرُ عِنْدَ الْخُسُوفِ بِالْعَتَاقَةِ ( روایت نمبر ۲۵۲۰) یعنی ہمیں گرہن کے وقت غلام آزاد کرنے کا حکم دیا جاتا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غلاموں کے آزاد کرنے میں کسی جبری قانون سے کام نہیں لیا۔ بلکہ مناسب موقع پر ترغیب و تحریص سے غلاموں کو آزادی دلوائی ہے۔ زمانہ قدیم میں شخصی ملکیت کا معتد بہ حصہ غلام تھے۔ آپ نے کسی فوری تبدیلی سے اعراض کیا اور لوگوں کی ملکیت اور اموال میں ایسے طور سے دخل دیا کہ اقتصادی توازن میں خلل واقعہ ہونے کے بغیر اجتماعی اصلاحات میں کامیاب ہوئے اور انسان کو انسان کی ظالمانہ غلامی سے آزاد فر مایا۔ تفصیل کے لئے دیکھئے کتاب العتق ۔ باب ۱۲ : صَلَاةُ الْكُسُوْفِ فِي الْمَسْجِدِ مسجد میں کسوف کی نماز پڑھنا ١٠٥٥: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ :۱۰۵۵: اسماعیل بن ابی اولیس) نے ہم سے حَدَّثَنِي مَالِكَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے بھی بن عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ سعید سے، کیا نے عمرہ بنت عبدالرحمن سے، انہوں رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ يَهُودِيَّةً جَاءَتْ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ ایک