صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 31
صحیح البخاری جلد ۲ ۳۱ ١٠ - كتاب الأذان الرِّجَالِ فِي اللَّيْلَةِ الْبَارِدَةِ أَوِ الْمَطِيْرَةِ اذان دے۔ پھر اس کے بعد یہ کہے: أَلَا صَلُّوا فِي فِي السَّفَرِ۔ اطرافه: ٦٦٦ الرِّحَالِ یعنی اپنی جگہوں میں نماز پڑھ لو۔ ٦٣٣ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ قَالَ أَخْبَرَنَا ۶۳۳ : اسحاق نے ہم سے بیان کیا، کہا: جعفر بن جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعُمَيْسِ عون نے ہمیں بتایا، کہا: ابوالمیس نے ہم سے بیان عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کیا کہ انہوں نے عون بن ابی محیفہ سے ،عون نے رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اپنے باپ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے وَسَلَّمَ بِالْأَبْطَحِ فَجَاءَهُ بِلال فَآذَنَ رسول الله صل للہ علیہ وسلم کو الح اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اصبح میں دیکھا۔ آپ کے بِالصَّلَاةِ ثُمَّ خَرَجَ بِلَالٌ بِالْعَنَزَةِ حَتَّى پاس حضرت بلال آئے اور نماز کی اطلاع دی۔ پھر رَكَزَهَا بَيْنَ يَدَيَّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ حضرت بلال پر بھی لے کر باہر آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ابطح میں اسے گاڑ دیا اور عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْأَبْطَحِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ۔ نماز کے لئے تکبیر اقامت کہی۔ اطرافه: ۱۸۷ ، ۳۷۶، ٤٩٥، 499 ، 501 ، 63، 3553، 3566، 5786، 5859 تشریح : الأَذَانُ لِلْمُسَافِرِينَ : یہ مسلہ ھی اختلافی ہے کہ اذان تھا آدمی کے لئے بھی ضروری ہے یا نہیں۔ بعض نے اذان کو باجماعت نماز کے لئے مشروط کیا ہے۔ خواہ سفر میں ہے۔ خواہ سفر میں ہوں یا حضر میں کیونکہ ان کے نزدیک اذان سے مدعا لوگوں کو نماز کے لئے اطلاع دینا اور اکٹھا کرنا ہے۔ لیکن اکثر فقہاء نے اس کو سنت مؤکدہ قرار دے کر ایک فرد کے لئے بھی ضروری قرار دیا ہے۔ امام ابو حنیفہ، امام شافعی ، امام احمد بن حنبل اور سفیان ثوری کا یہی مذہب ہے۔ کیونکہ اذان کی غرض صرف نمازیوں کو بلانا نہیں بلکہ اعلان حق بھی ہے۔ دیکھئے تشریح باب ۵۔ جس میں حضرت ابو سعید خدری کی یہ روایت گزر چکی ہے کہ اگر تم بیابان میں بھی ہو، تب بھی بلند آواز سے اذان دو۔ (روایت نمبر ۶۰۹) اقامت سے متعلق بھی اکثر کا یہی مذہب ہے، بلکہ فقہاء نے اس کو اذان سے بڑھ کر سنت مؤکدہ قرار دیا ہے۔ فتح الباری جزء ثانی صفحه ۱۴۶-۱۴۷) عنوان باب کی ذیل میں پانچ روایتیں لائی گئی ہیں۔ پہلی مطلق سفر میں اذان دے کر باجماعت نماز پڑھنے سے متعلق بطور حوالہ پیش کی گئی ہے۔ تا سنت نبوی کا علم ہو۔ دوسری اور تیسری لفظ جماعت کی تعریف کرتی ہے۔ یعنی دو یا دو سے زیادہ آدمی جماعت کے حکم میں ہیں۔ دو میں سے ایک مقتدی ہو اور دوسرا امام اور وہ اذان اور اقامت کے ساتھ باجماعت نماز ادا کریں۔ چوتھی روایت اس غرض سے پیش کی ہے کہ اذان محض لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لئے نہیں ہوتی ۔ جیسا کہ