صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 453
صحیح البخاری جلد ۲ ۴۵۳ ١٦ - كتاب الكسوف باب ۹ : صَلَاةُ الْكُسُوْفِ جَمَاعَةً گرہن کی نماز با جماعت پڑھنا وَصَلَّى ابْنُ عَبَّاسٍ لَهُمْ فِي صُفَةِ زَمْزَمَ اور حضرت ابن عباس نے زمزم کے سائبان میں وَجَمَعَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ انہیں نماز پڑھائی اور علی بن عبداللہ بن عباس نے وَصَلَّى ابْنُ عُمَرَ۔ لوگوں کو اکٹھا کیا اور حضرت ابن عمرؓ نے انہیں گرہن کی نماز پڑھائی۔ ١٠٥٢ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ۱۰۵۲: عبد اللہ بن مسلمہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عَنْ مَالِكٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ مالک سے، مالک نے زید بن اسلم سے، زید نے عطاء بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بن پیار سے، عطاء نے حضرت عبداللہ بن عباس سے الْخَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُوْلِ روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّی کے زمانے میں سورج گرہن ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی ۔ آپ اتنی دیر تک کھڑے قِيَامًا طَوِيلاً نَحْوًا مِنْ قِرَاءَةِ سُورَةِ رہے جتنی دیر میں سورۃ بقرہ پڑھی جاسکتی الْبَقَرَةِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوْعًا طَوِيلاً ثُمَّ رَفَعَ ہے۔ پھر آپ نے لمبا کوع کیا اور سر اٹھایا اور دیر تک کھڑے رہے اور یہ قیام پہلے سے کم تھا۔ پھر آپ نے فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلاً وَهُوَ دُوْنَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوْعًا طَوِيْلاً وَهُوَ لمبارکوع کیا اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا۔ پھر آپ نے سجدہ کیا ۔ پھر دیر تک کھڑے رہے۔ یہ قیام پہلے قیام دُوْنَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ قَامَ سے کم تھا۔ پھر ایک لمبرکوع کیا اور یہ کون پہلے سے کم قِيَامًا طَوِيْلاً وَهُوَ دُوْنَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ تھا۔ پھر آپ نے سر اٹھایا اور دیر تک کھڑے رہے اور رَكَعَ رُكُوْعًا طَوِيلاً وَهُوَ دُوْنَ یہ قیام پہلے سے کم تھا۔ ا تھا۔ پھر ایک لمبارکوع کیا اور یہ رکوع الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا پہلے سے کم تھا۔ پھر آپ نے سجدہ کیا اور پھر (نماز طَوِيلاً وَهُوَ دُوْنَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ سے فارغ ہوئے اور سورج ظاہر ہو چکا تھا۔ آپ