صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 450
صحیح البخاری جلد ۲ ۴۵۰ ١٦ - كتاب الكسوف بَاب : التَّعَوُّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ فِي الْكُسُوْفِ سورج گرہن کے وقت عذاب قبر سے پناہ مانگنا ١٠٤٩ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ ۱۰۴۹: عبد اللہ بن مسلمہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں مَسْلَمَةَ عَنْ مَّالِكٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ نے مالک سے، مالک نے یحی بن سعید سے، بچی نے عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عمره بنت عبد الرحمن سے، انہوں نے حضرت عائشہ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ الله أَنَّ يَهُودِيَّةً في صلى اللہ علیہ وسلم کی زوجہ سے روایت کی کہ ایک جَاءَتْ تَسْأَلُهَا فَقَالَتْ لَهَا أَعَاذَكِ الله یہودی عورت ) حضرت عائشہ) سے کچھ مانگنے آئی ۔ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ فَسَأَلَتْ عَائِشَةُ اس نے اُن کو یہ دعا دی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو عذاب قبر رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا رَسُوْلَ اللهِ ﷺ سے پناہ میں رکھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے أَيُعَذِّبُ النَّاسُ فِي قُبُورِهِمْ فَقَالَ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا لوگوں کو اُن رَسُولُ اللهِ ﷺ عَائِدًا بِاللهِ مِنْ ذَلِكَ کی قبروں میں عذاب دیا جائے گا ؟ رسول اللہ صلی اللہ اطرافه: ١٠٥٥، ١٣٧٢، ٦٣٦٦۔ :١٠٥٠ صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا: خدا کی پناہ اس سے۔ ثُمَّ رَكِبَ رَسُولُ اللهِ ﷺ ۱۰۵۰ پھر ایک صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سواری ذَاتَ غَدَاةٍ مَرْكَبًا فَخَسَفَتِ الشَّمْسُ پر سوار ہوئے ۔ اسی را ۔ اسی روز سورج گرہن لگا ۔ آر لگا ۔ آپ چاشت فَرَجَعَ ضُحًى فَمَرَّ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ بَيْنَ کے وقت لوٹ آئے اور ( اپنی ازواج کے ) حجروں سے ظَهْرَانِي الْحُجَرِ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي وَقَامَ ہوتے ہوئے گزرے۔ پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے النَّاسُ وَرَاءَهُ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلاً ثُمَّ رَكَعَ اور لوگ بھی آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے اور بہت دیر رُكُوْعًا طَوِيلاً ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلاً تک کھڑے رہے پھر آپ نے ایک لمبا رکوع کیا پھر وَهُوَ دُوْنَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا سر اٹھایا اور پھر دیر تک کھڑے رہے اور یہ قیام پہلے سے کم طَوِيلاً وَهُوَ دُوْنَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ تھا اور پھر آپ نے ایک لمبا رکوع کیا اور یہ رکوع پہلے فَسَجَدَ ثُمَّ قَامَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلاً وَهُوَ سے کم تھا۔ پھر سر اٹھایا اور سجدہ کیا۔ پھر کھڑے ہوئے اور