صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 449
البخاری جلد ۲ ١٦ - كتاب الكسوف أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حدیث کو موسیٰ نے مبارک سے اور مبارک نے حسن بصری سے وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يُخَوِّفُ بِهِمَا عِبَادَهُ۔روایت کرتے ہوئے بتایا۔انہوں نے کہا: حضرت ابوبکر نے مجھے بتایا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان اطرافه: ۱۰٤٠ ، ١٠٦۲، ١٠٦٣، ٥٧٨٥۔دونوں کو گہنا کر اپنے بندوں کو خوف دلاتا ہے۔یح : يُخَوِّفُ اللهُ عِبَادَة : عنوان باب میں حضرت ابوموسی اشعری کی روایت کا جو والہ دیا گیا ہے۔وہ نمبر ۱۰۵۹ میں مفصل دیکھئے۔حضرت ابوبکرہ کی روایت نمبر ۱۰۴۸ کئی لوگوں سے مروی ہے اور اکثر کی روایت میں الفاظ يُخَوفَ بِهِمَا عِبَادَہ نہیں۔امام بخاری نے اس روایت کے آخر میں پانچ حفاظ حدیث کا حوالہ دیا ہے۔جنہوں نے یونس سے بغیر ان الفاظ کے مذکورہ بالا روایت نقل کی ہے۔عبدالوارث کی روایت کے لیے دیکھئے روایت نمبر ۱۰۶۳۔شعبہ کی روایت کے لیے دیکھئے روایت نمبر ۱۰۶۲ اور خالد کی روایت کے لیے دیکھئے روایت نمبر ۱۰۴۰ اور حماد کی روایت طبرانی نے نقل کی ہے جو لفظ و معنا خالد کی روایت نمبر ۱۰۴۰ کی طرح ہے۔یعنی فَصَلُّوا وَادْعُوا۔اشعث کی روایت میں یہ الفاظ نہیں۔اشعف سے نسائی اور ابن حبان وغیرہ نے نقل کیا ہے۔(نسائي۔كتاب الكسوف۔باب الامر بالصلاة عند الكسوف حتى لا تنجلی ) (صحیح ابن حبان باب صلاة الكسوف ذكر خبر اوهم عالما من الناس ان صلاة الكسوف كسائر الصلوات سواء، روایت نمبر ۲۸۳۷، جزء صفحه ۷۸) (تفصیل کے لیے دیکھتے فتح الباری جزء ثانی صفحه ۹۲) مگر موسیٰ بن اسمعیل نے مبارک سے حضرت ابو بکرہ کی جو روایت نقل کی ہے اس میں منقولہ الفاظ ہیں جو اکثر سندوں میں نہیں صرف دوسندوں میں ہیں۔امام بخاری نے ان دو سندوں کے الفاظ کی تائید میں حضرت ابو موسیٰ اشعری کی روایت نمبر ۱۰۵۹ پیش کی ہے جو مستقل روایت ہے۔اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھبرا کر باہر نکلنے کا ذکر بھی ہے اور آپ کا یہ ارشاد بھی کہ جب کسوف دیکھو تو اللہ تعالیٰ کے ذکر اور دعاؤں اور استغفار کے لئے مضطرب ہو کر اس کے حضور جھکو۔ان الفاظ سے بھی پتہ چلتا ہے کہ آپ اس تغیر پر جو بظاہر بیبت ناک منظر پیش کرتا ہے، دلوں میں تقویٰ اللہ کے جذبات پیدا کرنا چاہتے ہیں۔اِنَّ اللهَ تَعَالَى يُخَوِّفُ بِهِمَا عِبَادَهُ۔کسی امر کی علت غائی ایک سے زیادہ بھی ہوسکتی ہے۔علم الافلاک کے ماہرین اگر اس تعلق کی علت غائی یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے انسانوں کو دوران کسی کی کیفیات اور سورج ، چاند اور زمین کے آپس کے تعلقات کا علم ہو جائے تو ماہرین علم روحانیت کا حق ہے کہ وہ اپنے مناسب حال ایک الگ علت غائی تجویز کریں۔دونوں علتیں آپس میں ٹکراتی نہیں۔یہ فلکی تغیرات انسانی زندگی میں کئی قسم کی مفید تا ثیرات پیدا کر سکتے ہیں۔ان تاثیروں میں ایک تاثیر علمی ہے جو انسان کے ذہن میں پیدا ہوتی ہے اور ایک تاثیر روحانی ہے جو اہل اللہ اپنے نفسوں میں پیدا کرنا چاہتے ہیں اور ان تا شیروں کے حصول کے لئے صرف انتقال فکری کی ضرورت ہے۔اس قسم کی روحانی تاثیرات کی ایک اور مثال اگلے باب میں دی گئی ہے۔