صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 444 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 444

ی جلد ۲ ۴۴۴ ١٢ - كتاب الكسوف مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلامِ بْنِ أَبِي سَلام سلام بن ابی سلام حبشی دمشقی نے ہم سے بیان کیا، الْحَبَشِيُّ الدِّمَشْقِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى کہا: حي بن ابی کثیر نے ہمیں بتایا، کہا: ابوسلمہ بن بْنُ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عبد الرحمن بن عوف زہری نے حضرت عبد اللہ بن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْن عَوْفِ الزُّهْرِيُّ عَنْ عمرو رضی اللہ عنہما ( ابن عاص ) سے روایت کرتے عَبْدِ اللَّهِ بْن عَمْرِو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا ہوئے مجھے بتایا کہ انہوں نے کہا: جب رسول اللہ كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن ہوا تو الله ع نُوْدِيَ إِنَّ الصَّلَاةَ جَامِعَةً۔لوگوں کو یوں آواز دی گئی: إِنَّ الصَّلوةَ جَامِعَةٌ یعنی نماز با جماعت ہوگی۔اطرافه: ١٠٥۱ تشریح : اليَدَاءُ بِ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ": اگر چہ ی مسلہ بالاتفاق سلم ہےکہ نماز کوف کے لئے نہ اذان ہے اور نہ تکبیر اقامت مگر روایت نمبر ۱۰۴۵ کی بناء پر بعض نے یہ مستحب سمجھا ہے کہ لوگوں کو پکار کر اطلاع دے دی جائے کہ نماز کسوف با جماعت ہوگی۔بَابِ ٤ : خُطْبَةُ الْإِمَامِ فِي الْكُسُوْفِ امام کا سورج گرہن میں (لوگوں سے ) مخاطب ہونا وَقَالَتْ عَائِشَةُ وَأَسْمَاءُ خَطَبَ النَّبِيُّ اور حضرت عائشہ اور حضرت اسماء ( بنت ابی بکر نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔روایت کی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے (سورج گرہن کے وقت ) خطبہ پڑھا۔١٠٤٦: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ :١٠٤٦ يحيی بن بکیر نے ہم سے بیان کیا، کہا: لیث قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلِ عَنِ ابْنِ نے مجھے بتایا۔انہوں نے عقیل سے عقیل نے ابن شِهَابٍ ح و حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ شہاب سے روایت کی۔نیز احمد بن صالح نے مجھے قَالَ حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بتایا، کہا: عنبہ ( بن خالد ) نے بھی ہم سے بیان کیا۔عَنِ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ عَنْ انہوں نے کہا: یونس (بن یزید) نے ہمیں بتایا۔