صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 444 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 444

صحیح البخاری جلد ۲ ۴۴۴ ١٦ - كتاب الكسوف مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَامِ بْنِ أَبِي سَلَام سلام بن ابی سلام حبشی دمشقی نے ہم سے بیان کیا، الْحَبَشِيُّ الدِّمَشْقِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى کہا : يحي بن ابی کثیر نے ہمیں بتایا ، کہا: ابوسلمہ بن بْنُ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عبد الرحمن بن عوف زہری نے حضرت عبداللہ بن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفِ الزُّهْرِيُّ عَنْ عمرو رضی اللہ عنہما (ابن عاص ) سے روایت کرتے عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا ہوئے مجھے بتایا کہ انہوں نے کہا: جب رسول اللہ كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ صلى الله علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن ہوا تو صلى الله عليم اللهِ لا نُودِيَ إِنَّ الصَّلَاةَ جَامِعَةٌ۔ اطرافه: ١٠٥١۔ لوگوں کو یوں آواز دی گئی: إِنَّ الصَّلوةَ جَامِعَةٌ یعنی نماز با جماعت ہوگی ۔ تشریح : النِّدَاءُ بِ الصَّلَاةُ جَامِعَةُ: اگرچہ یہ مسلہ بالاتفاق مسل ہے کہ نماز کسوف کے لئے نہ اذان ہے اور نہ تکبیر اقامت مگر روایت نمبر ۱۰۴۵ کی بناء پر بعض نے یہ مستحب سمجھا ہے کہ لوگوں کو پکار کر اطلاع دے دی جائے کہ نماز کسوف با جماعت ہوگی ۔ باب ٤ : خُطْبَةُ الْإِمَامِ فِي الْكُسُوْفِ امام کا سورج گرہن میں ( لوگوں سے ) مخاطب ہونا وَقَالَتْ عَائِشَةُ وَأَسْمَاءُ خَطَبَ النَّبِيُّ اور حضرت عائشہ اور حضرت اسماء ( بنت ابی بکر ) نے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ۔ روایت کی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے (سورج گرہن کے وقت ) خطبہ پڑھا۔ ١٠٤٦: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ۱۰۴۶: يحي بن بکیر نے ہم سے بیان کیا، کہا:ليث قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ابْنِ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عقیل سے عقیل نے ابن شِهَابٍ ح و حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ شہاب سے روایت کی ۔ نیز احمد بن صالح نے مجھے قَالَ حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بتایا ، کہا : عنبسہ ( بن خالد ) نے بھی ہم سے بیان کیا۔ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ عَنْ انہوں نے کہا: یونس (بن یزید ) نے ہمیں بتایا۔