صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 445
جلد ۲ ۴۴۵ ١٦ - كتاب الكسوف عائشة زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ابن شہاب سے مروی ہے کہ (انہوں نے کہا: ) عروہ وَسَلَّمَ قَالَتْ حَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي نے حضرت عائشہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ سے حَيَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا۔وہ کہتی تھیں کہ نبی فَخَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَصَفَّ النَّاسُ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورج گرہن ہوا۔آپ وَرَاءَهُ فَكَبَّرَ فَاقْتَرَأَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی مسجد میں گئے۔لوگ آپ کے پیچھے صف بستہ کھڑے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِرَاءَةً طَوِيْلَةً ثُمَّ كَبَّرَ ہو گئے۔آپ نے اللہ اکبر کہا اور بہت لمبی قرآت کی۔فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيْلاً ثُمَّ قَالَ سَمِعَ الله پھر تکبیر کہی اور بڑ المبارکوع کیا۔پھر آپ نے سمع لِمَنْ حَمِدَهُ فَقَامَ وَلَمْ يَسْجُدْ وَقَرَأَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَہ کہا اور کھڑے ہو گئے اور سجدہ نہیں کیا قِرَاءَةً طَوِيْلَةً هِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِرَاءَةِ اور لیبی قرآت کی جو کہ پہلی قرآت سے کم تھی۔پھر آپ الْأُولَى ثُمَّ كَبَّرَ وَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيْلًا نے اللہ اکبر کہا اور لمبا رکوع کیا جو پہلے رکوع سے کم تھا۔وَهُوَ أَدْنَى مِنَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ قَالَ پھر آپ نے سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ کہا۔پھر سجدہ کیا۔پھر دوسری رکعت میں بھی الْحَمْدُ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ قَالَ فِي الرَّكْعَةِ ایسا ہی کیا۔اس طرح آپ نے (دورکعتوں میں) چار الْآخِرَةِ مِثْلَ ذَلِكَ فَاسْتَكْمَلَ أَرْبَعَ رکوع اور چار سجدے کئے اور سورج نماز سے فارغ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ وَالْجَلَتِ ہونے سے پہلے پہلے ظاہر ہو گیا تھا۔پھر آپ کھڑے الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يُنْصَرِفَ ثُمَّ قَامَ فَأَثْنَى ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی جس تعریف کے وہ لائق ہے، عَلَى اللهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ هُمَا تعریف کی اور فرمایا: چاند اور سورج اللہ تعالیٰ کے آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ لَا يَحْسِفَانِ نشانوں میں سے دونشان ہیں۔کسی کی موت کی وجہ سے لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا انہیں گرہن نہیں لگتا اور نہ کسی کی زندگی کی وجہ سے، سو رَأَيْتُمُوْهُمَا فَافْزَعُوْا إِلَى الصَّلَاةِ جب سورج اور چاند کو تم گرہن لگا ہوا دیکھو تو نماز کے وَكَانَ يُحَدِّثُ كَثِيرُ بْنُ عَبَّاس أَنَّ عَبْدَ لئے مضطرب ہوکر لیکو اور کثیر بن عباس بیان کرتے اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَ تھے کہ ان کے بھائی) حضرت عبداللہ بن عباس -