صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 443 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 443

صحيح البخاری جلد ۲ ١٦ - كتاب الكسوف مُحَمَّدٍ {وَاللَّهِ } لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ کہ اس کا بندہ یا اس کی باندی زنا کرے۔ اے محمد کی امت ! اللہ کی قسم ! } اگر تمہیں معلوم ہو جو مجھے معلوم لَضَحِكْتُمْ قَلِيْلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا۔ ہے تو تم لوگ یقیناً ہنستے کم اور روتے بہت ۔ اطرافه: ١٠٤٦، 1٠٤٧، 1050 ، 1056، 1058 ، 1064 ، 1065، 1066، ٤٦٢٤، ٥٢٢١، ٦٦٣١ ،۳۲۰۳ ،۱۲۱۲ تشريح : الصَّدَقَةُ فِي الكسوف : جس طرح مادی ملک کا سورج تاریک ہو جاتا ہے اسی طرح روحانی مملکت میں انسان کی عقل و دانش پر بھی تاریکی چھا جاتی ہے جس سے تمیز کی قابلیت بالکل مفقود مفقود ہو جاتی ہے۔ یہ تاریکی غلبہ شہوات نفس کے وقت ہوتی ہے جبکہ انسان بالکل اندھا ہو جاتا ہے۔ اسی مناسبت کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کے وقت اپنی امت کو ان الفاظ میں مخاطب فرمایا: يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ وَاللَّهِ مَا مِنْ أَحَدٍ أَغْيَرُ مِنَ الله آنْ أَنْ يَزْنِي عَبْدُهُ أَوْ تَزْنِی اَمَتُهُ۔ غلبہ شہوات کی گھڑی میں عقل پر تاریکی چھانے اور اس روحانی اندھے ندھے پن کے شر سے محفوظ رہنے کے لئے آپ نے کیا ہی درد بھرے الفاظ سے اپنی امت کو نصیحت فرمائی ہے۔ اے محمد کی امت! تم میں سے کسی کا غلام یا لونڈی زنا کرے تو تمہیں غیرت محسوس ہوتی ہے۔ اللہ کی قسم ! اللہ تم سے بڑھ کر غیرت مند ہے، اپنے بندوں کی بابت جب ان میں سے کوئی بدکاری کا ارتکاب کرتا ہے۔ فَادْعُوا اللَّهَ وَكَبِّرُوا وَصَلُّوا وَتَصَدَّقُوا : سورج گرہن پر دعائیں کرنے نماز میں پڑھنے اور صدقہ دینے کا حکم دیا ہے کیونکہ صدقہ سے بھی تزکیہ نفس ہوتا ہے، جیسے نمازوں اور دعاؤں سے۔ دیکھئے کتاب الزکوۃ كتاب الزكوة تشريح باب نمبر ۱ ،۲۳، ۲۷۔ روایت نمبر ۱۰۴۴ مختلف سندوں سے مروی ہے۔ صدقہ کا حکم اور آخری الفاظ ہشام بن عروہ کی روایت میں ہیں۔ اسی وجہ سے باب نمبر ۲ میں ان کی سند پیش کی گئی ہے تا شارع اسلام علیہ الصلوۃ والسلام کا وہ مقصد واضح ہو جو اس نماز کی مشروعیت کا اصل باعث ہے۔ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا ۔ ان الفاظ سے بھی واضح ہے کہ آپ کسوف شمس کے وقت امت کے تزکیۂ نفس کی کتنی آرزو رکھتے تھے اور کیسے درد انگیز الفاظ میں سورج کی تاریکی سے اس روحانی تاریکی کی طرف ذہنوں کو منتقل فرمایا ہے جو آپ کے زمانہ میں تمام جہان پر چھائی ہوئی تھی۔ بَاب : النِّدَاءُ بِ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ فِي الْكُسُوْفِ " نماز کے لئے ( یوں ) پکار کر بلانا گرہن میں نماز با جماعت ہوگی ١٠٤٥: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ قَالَ :۱۰۴۵: الحق نے ہم سے بیان کیا، کہا: یحی بن أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ قَالَ حَدَّثَنَا صالح نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: معاویہ بن ير لفظ ”والله فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے۔ ( فتح الباری جزء ثانی حاشیہ صفحہ ۶۸۳) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔