صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 433
صحيح البخاری جلد ۲ ۳۳ ١٥ - كتاب الاستسقاء اے اللہ میں تجھ سے اس کی خیر چاہتا ہوں جو تو نے اس میں رکھی ہے۔ اور جو شر ( کا پہلو ) اس میں ہے اس سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ } دنیا کی ہر شے انسان کے لیے نفع بخش بھی ہو سکتی ہے اور نقصان رساں بھی اور انسان غفلت کی گھڑیوں میں نہیں جانتا کہ اس کے لئے کیا مقدر ہے، اس لئے اسے چاہیے کہ دنیا کے ہر تغیر کا بیدار مغزی اور ایسے دل سے استقبال کرے جو امید و بیم کے جذبات لئے ہوئے ہو۔ بَاب ٢٦ : قَوْلُ النَّبِيِّ ﷺ نُصِرْتُ بِالصَّبَا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا: مشرقی ہوا سے میری مدد کی گئی ١٠٣٥ : حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ قَالَ حَدَّثَنَا ۱۰۳۵: مسلم ( بن ابراہیم ) نے ہم سے بیان کیا، شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ کہا : شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حکم سے حکم نے عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مجاہدے ، مجاہد نے حضرت ابن عباس سے روایت کی قَالَ نَصِرْتُ بِالصَّبَا وَأُهْلِكَتْ عَادٌ که نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بادصبا سے میری بِالدَّبُوْرِ۔ اطرافه: ۳۲۰۵، 3343، 4105 مدد کی گئی اور باد و بور سے عاد ہلاک کئے گئے ۔ باد تشريح : نُصِرْتُ بِالصَّبَا وَأُهْلِكَتُ عَادُ بالدَّبُور : ا د ا ر ی ہو اور باد و غربی وا کو کہتے ہیں۔ جنگ احزاب میں مشرکین کی آگ مشرقی ہوا کے چلنے سے رات کو بجھ گئی تھی جس سے انہوں نے برا شگون لیا اور اتنے گھبرائے کہ اپنے خیمے لپیٹ کر راتوں رات بھاگ گئے ۔ نُصِرْتُ بِالصَّبا سے اسی نصرت الہی کی طرف اشارہ ہے۔ جنگ بدر جنگ بدر میں بھی ایسا ہی ہوائی بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ یہ باب قائم کر کے امام موصوف نے سابقہ باب کا مضمر کا مضمون واضح کیا ہے کہ کس طرح ایک چیز ایک ہی وقت میں مفید اور مضر ہو سکتی ہے۔ اس تعلق میں کتاب المغازی تشریح باب نمبر ۲۹ بھی دیکھئے۔ باب ۲۷ : مَا قِيْلَ فِي الزَّلَازِلِ وَالْآيَاتِ جو زلزلوں اور نشانوں سے متعلق بیان کیا گیا ہے ١٠٣٦ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ :۱۰۳۶: ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعیب أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو الزِّنَادِ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: ابوالزناد نے ہم سے عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي بیان کیا۔ انہوں نے عبدالرحمن (بن ہرمز ) اعرج هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ہے ، عبد الرحمن نے حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت کی