صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 432
صحيح البخاری جلد ۲ ۴۳۲ ١٥ - كتاب الاستسقاء اس کی کیفیات کا احاطہ و ادراک کرنا ہمارے لئے ناممکن ہے۔ہم آپ کی دعا کے معجزانہ رنگ میں قبول ہونے سے صرف استدلال کر سکتے ہیں۔اِنَّ مِنْ عِبَادِ اللهِ مَنْ لَّوْ أَقْسَمَ عَلَى اللهِ لَابَرَّهُ ( روایت نمبر ۲۷۰۳) اللہ کے بندوں میں سے ایسے بھی ہوتے ہیں جو اگر اللہ کو ستم دیں تو وہ ان کی قسم پوری کر دے۔صحیح مسلم میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مذکورہ بالا واقعہ منقول ہے۔اس میں یہ الفاظ ہیں : عَنْ أَنَسِ۔۔۔۔۔قَالَ فَحَسَرَ رَسُولُ اللهِ لا ثَوْبَهُ حَتَّى أَصَابَهُ مِنَ الْمَطَرِ۔قَالَ لِأَنَّهُ حَدِيثُ عَهْدٍ بِرَبِّهِ (مسلم کتاب صلاة الاستسقاء باب الدعاء في الاستسقاء) یعنی رسول اللہ سی اللہ علیہ وسلم نے کپڑا ہٹا کر سر کھول دیا۔پانی کے قطرے آپ پر پڑے تو آپ نے فرمایا: یہ پانی ابھی ابھی اپنے رب سے مل کر آیا ہے۔( تازہ ملاقات کر کے اور تازہ خبر لے کر اس جملے کے یہ دونوں ہی مفہوم ہیں: یعنی شان ربوبیت اس کی آمد سے ہویدا ہے۔یہ فقرہ محبت کے گہرے جذبات میں ڈوبا ہوا ہے۔لأَنَّهُ حَدِيثُ عَهْدِ بِرَبِّهِ کمال بلاغت سے معمور ہے۔اللہ تعالیٰ سے آپ کا جو عاشقانہ تعلق تھا وہ آپ کے ان الفاظ سے عیاں ہے۔بارش شروع ہونے پر آپ نے خطبہ بند نہیں کیا بلکہ جاری رکھا یہاں تک کہ اس زور سے بارش ہوئی کہ چھت ٹپکنے لگی جس سے آپ کی داڑھی پر بھی قطرے پڑے اور آپ نے سر سے چادر اتار کر عاشقانہ انداز میں شکریہ ومحبت کے جذبات کا اظہار فرمایا۔لأَنَّهُ حَدِيثُ عَهْدِ بربه عربی علم وادب سے واقف اصحاب اس فقرے کی روح اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔اردو زبان اس کی ترجمانی سے قاصر ہے۔مفہوم اس کا یہ ہے کہ اسے اختیار ہے کہ داڑھی پر پڑے یا سر پر۔دعا کی قبولیت کا تازہ نشان ہے اور ایک ایسا مہمان ہے جو ابھی اپنے رب سے ملاقات کر کے آیا ہے۔اس لئے یہ پانی پیارا ہے۔اس کی خبر درست ہے اس کے ذریعے سے شان ربوبیت ظاہر ہوئی ہے۔آسمان پر کچھ نہ تھا اور آن واحد میں سب کچھ ہو گیا۔بَابِ ٢٥ : إِذَا هَبَّتِ الرِّيْحُ جب آندھی چلتی ( یا چلے تو کیا کرنا چاہیے ) ١٠٣٤: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي :۱۰۳۴ سعید بن ابن مریم نے ہم سے بیان کیا، مَرْيَمَ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ کہا: محمد بن جعفر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: حمید أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا يَقُوْلُ (طويل) نے مجھے خبر دی کہ انہوں نے حضرت انسؓ كَانَتِ الرِّيْحُ الشَّدِيْدَةُ إِذَا هبت ( بن مالک) سے سنا۔وہ کہتے تھے: جب زور کی عُرفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ آندھی چلتی تھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ پر اس کا عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔اثر معلوم ہوتا۔تشریح: --- خَيْرِ مَا أَمَرْتَ بِهِ وَاَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا أَمَرْتَ بِه ( مسند ابی یعلی مندانس۔جز ۵ صفر ۲۸۴۔روایت نمبر ۲۹۰۵) إِذَا هَبَّتِ الرِّيحُ : بعض مستند روایات میں آتا ہے کہ جب آندھی چلتی تو آپ کی دعا کرتے: اللَّهُمَّ إِنِّی أَسْتَلْكَ مِنْ