صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 434
صحيح البخاری جلد ۲ ١٥ - كتاب الاستسقاء وہ وَسَلَّمَ لَا تَقُوْمُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقْبَضَ کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الْعِلْمُ وَتَكْثرَ الزَّلَازِلُ وَيَتَقَارَبَ ساعت برپا نہ ہوگی مگر اس وقت کہ جب علم سمیٹ لیا الزَّمَانُ وَتَظْهَرَ الْفِتَنُ وَيَكْثُرَ الْهَرْجُ جائے گا اور بھونچال بہت ہوں گے اور زمانہ جلدی وَهُوَ الْقَتْلُ الْقَتْلُ حَتَّى يَكْثُرَ فِيْكُمُ جلدی گزرے گا اور فتنوں کا غلبہ ہوگا اور مار دھاڑ بہت ہوگی۔ھرج کے معنی ہیں قتل اور جب دولت تم الْمَالُ فَيَفِيْضَ۔میں اتنی بڑھ جائے گی کہ سیلاب کی طرح ہے گی۔اطرافه ٨٥، ١٤١٢، 3608، 4635، 4636، 6037، 6506، 6935، ٧٠٦١، ۷۱۲۱ ،۷۱۱۵ ۱۰۳۷: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى :۱۰۳۷ محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا، کہا: حسین قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَ بن حسن نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: ابن عون حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ نَافِعِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ نے ہمیں بتایا۔ابن عون نے نافع سے، نافع نے حضرت قَالَ اللَّهُمَّ بَارِك لَنَا فِي شَامِنَا وَفِي ابن عمرؓ سے روایت کی۔( نافع نے کہا:) انہوں نے يَمَنِنَا قَالَ قَالُوْا وَفِي نَجْدِنَا قَالَ قَالَ (یوں) دُعا کی: اے اللہ ! ہمارے (ملک) شام میں اور هُنَاكَ الزَّلَازِلُ وَالْفِتَنُ وَبِهَا يَطْلُعُ قَرْنُ ہمارے یمن میں برکت دے۔(نافع) کہتے تھے: لوگوں نے کہا اور ہمارے نجد میں بھی۔(نافع ) کہتے الشَّيْطَان۔اطرافه ۷۰٩٤ تشریح: تھے تو انہوں نے جواب دیا: وہاں تو زلزلے اور فساد ہوں گے۔وہیں سے شیطان کا گروہ نکلے گا۔مَا قِيْلَ فِى الزَّلَازِلِ وَالآيَاتِ : بعض روایات میں آتا ہے : صَلَاةُ الْآيَاتِ سِبُّ رَكَعَاتٍ و أَرْبَعُ سَجدَات (صحيح ابن حبان، ذكر وصف صلاة الآيات۔جزء۷ صفحه ۷۰، روایت نمبر ۲۸۳۰) یعنی سورج گرہن وغیرہ جیسے حوادث کی مناسبت سے نماز چھ رکوع اور چار سجدوں پر مشتمل ہوتی ہے۔آیا زلزلے بھی انہیں آیات میں سے ہیں، جن کے ظاہر ہونے پر نماز پڑھنے اور دعا کرنے کا حکم ہے۔عبدالرزاق اور ابن حبان نے ایسی روایتیں نقل کی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ زلزلہ بھی انہی آیات میں سے ہے اور بعض علماء نے اس میں نماز پڑھنے کا فتویٰ دیا ہے۔(فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۶۷۲-۶۷۳) امام بخاری نے عنوان باب میں ان علماء کے فتوے کی طرف اشارہ کر کے اس کے