صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 427 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 427

صحيح البخاری جلد ۲ ۴۲۷ ١٥ - كتاب الاستسقاء بَاب ۲۱ : رَفْعُ النَّاسِ أَيْدِيَهُمْ مَعَ الْإِمَامِ فِي الْإِسْتِسْقَاءِ لوگوں کا دعائے استسقاء میں امام کے ساتھ اپنے ہاتھ اُٹھانا ۱۰۲۹: قَالَ أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ :۱۰۲۹ (اور ) ایوب بن سلیمان نے کہا: ابوبکر حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ عَنْ بن ابی اولیس نے مجھے بتایا۔ انہوں نے سلیمان بن سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ بلال سے روایت کی کہ یحی بن سعید نے کہا: میں سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ أَتَى رَجُلٌ نے حضرت انس بن مالک سے سنا۔ انہوں نے کہا: أَعْرَابِيُّ مِنْ أَهْلِ الْبَدْوِ إِلَى رَسُولِ اللهِ اہل بادیہ میں سے ایک بدوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ کے پاس جمعہ کے دن آیا اور اس نے کہا: یا رسول فَقَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ هَلَكَتِ الْمَاشِيَةُ الله ! مویشی مرگئے، بال بچے ہلاک ہو گئے اور هَلَكَ الْعِيَالُ هَلَكَ النَّاسُ فَرَفَعَ رَسُوْلُ لوگ مر گئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ يَدْعُو کرنے کے لئے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور وَرَفَعَ النَّاسُ أَيْدِيَهُمْ مَعَهُ يَدْعُوْنَ قَالَ لوگوں نے بھی دعا کے لئے آپ کے ساتھ اپنے فَمَا خَرَجْنَا مِنَ الْمَسْجِدِ حَتَّى مُطِرْنَا ہاتھ اٹھائے ۔ حضرت انس کہتے تھے کہ ہم مسجد سے فَمَا زِلْنَا نُمْطَرُ حَتَّى كَانَتِ الْجُمُعَةُ نکلے نہیں تھے کہ ہم پر بارش ہونے لگی اور دوسرے الْأُخْرَى فَأَتَى الرَّجُلُ إِلَى نَبِيِّ اللهِ جمعه تک بارش ہوتی رہی ۔ پھر وہی شخص نبی ﷺ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُوْلَ کے پاس آیا۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ ! مسافر اللهِ بَشِقَ الْمُسَافِرُ وَمُنِعَ الطَّرِيقُ اُکتا گئے ، راستے رُک گئے ۔ بَشِق کے معنے ہیں بَشِقَ أَيْ مَلَّ } گھبرا گیا ۔ اطرافه: ۹۳۲، ۹۳۳، ۱۰۱۳، 1014، ۱015، ۱۰۱۶، ۱۰۱۷، ۱۰۱۸، ۱۰۱۹، ٦٠٩، ٦٣٤٢۳ ،۳۵۸۲ ،۱۰۳۳ ،۱۰۲۱ ۱۰۳۰: وَقَالَ الْأَوَيْسِيُّ حَدَّثَنِي ۱۰۳۰: اور (عبدالعزیز) اویسی نے کہا: محمد بن جعفر مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ نے یحی بن سعید اور شریک سے روایت کرتے ہوئے الفاظ ”بَشِقَ أَى مَلَّ ، عمدۃ القاری کے مطابق ہیں۔ (عمدۃ القاری جزء ے صفحہ ۵۱) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔