صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 425 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 425

صحيح البخاری جلد ۲ ۴۲۵ ١٥ - كتاب الاستسقاء خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عباد نے اپنے چچا سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا کہ نبی الْمُصَلَّى يَسْتَسْقِي وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ صلى اللہ علیہ وسلم عید گاہ کو نماز استسقاء کے لئے نکلے اور فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَقَلَبَ رِدَاءَهُ قَالَ قبلہ رخ ہوکر آپ نے دو رکعتیں پڑھیں اور چادر سُفْيَانُ فَأَحْبَرَنِي الْمَسْعُوْدِيُّ عَنْ أَبِي الثائی۔ سفیان کہتے تھے: مسعودی ( بن عبدالرحمن بن بَكْرٍ قَالَ جَعَلَ الْيَمِينَ عَلَى الشِّمَالِ عبداللہ ) نے ابوبکر سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا، کہا: دائیں طرف کو بائیں طرف کیا۔ إطرافه: ۱۰۰۵، ۱۰۱۱، ۱۰۱۲، ۱۰۲۳ ، ۱۰۲۷، ۱۰۲۵، ۱۰۲۶، ١٠٢٨، ٦٣٤٣ تشريح : الاسْتِسْقَاءُ فِي الْمُصَلَّى: روایت ۱۰۲۷ اس سے پہلے چھ سندوں سے مل سے نقل کی جا چکی ہے۔ ) دیکھئے روایت نمبر ۱۰۰۵ ، ۱۰۱۱، ۱۰۱۲، ۱۰۲۳، ۱۰۲۴، ۱۰۲۵، ۱۰۲۶۔ ہر سند کی روایت میں کچھ نہ کچھ اختلاف ہے۔ روایت نمبر ۱۰۰۵ میں صرف بارش کے لئے دعا مانگنے، اس کے لئے باہر جانے اور چادر اُلٹانے کا ذکر ہے اور وہاں عنوان باب یہ قائم کیا گیا ہے : الاسْتِسْقَاءُ وَخُرُوجُ النَّبِيِّ الله فِي الاسْتِسْقَاءِ روایت نمبر ا ا ا میں اختصار ہے اور روایت نمبر ۱۰۱۲ میں تفصیل ہے اور وہاں باب کا عنوان تَحْوِيلُ الرِّدَاءِ فى الاسْتِسْقَاءِ ہے اور باب نمبر ۱۸ بھی مختصر ہے اور اس میں عنوان صَلَاةُ الإِسْتِسْقَاءِ رَكْعَتَانِ کی جگہ رَكْعَتَيْنِ ہے۔ باب نمبر ۱۹ کا عنوان جملہ مصدر یہ ہے۔ یہ صورت عنوان اس وقت اختیار کی جاتی ہے جب مسائل زیر عنوان سے متعلق اپنی رائے کسی نہ کسی وجہ سے ظاہر نہ کرنا چاہتے ہوں یا ان کو ایسے امور میں سے نہ سمجھتے ہوں کہ جن میں اختلاف کرنے کی واقعی ضرورت ہو۔ اگر باب ۱۸ کا عنوان یوں باندھا جاتا: صَلَاةُ الْإِسْتِسْقَاءِ رَكْعَتَانِ تو سمجھا جا سکتا تھا کہ بعض ایسی بھی صورتیں ہوں گی جن کی وجہ سے بعض لوگ دو سے زیادہ رکعتیں پڑھنے کے قائل ہیں اور امام موصوف ان کے خلاف اپنی تحقیق بالجزم پیش کر رہے ہیں۔ باب ۱۹ کا معنونہ مسئلہ بھی در حقیقت ایسا ہی مسئلہ ہے جس کے متعلق تخصیص نہیں کی جاسکتی کہ ضرور ہی عید گاہ میں جا کر دعا مانگی جائے ورنہ مقبول نہ ہوگی ۔ اگر چہ عید گاہ میں جا کر بارش کی دعا کرنا سنت نبویہ ہے اور لوگوں کا اس غرض کے لئے مخصوص طور پر باہر جا کر ا کٹھے ہونا ایک ایسا نظارہ ہے کہ جو دلوں میں خشوع و خضوع پیدا کرنے کا زیادہ محرک ہو سکتا ہے۔ تاہم یہ ان مسائل میں سے نہیں کہ استسقاء کے لئے یہ ضروری شرط قرار دی جائے ۔