صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 424
صحيح البخاری جلد ۲ ١٥ - كتاب الاستسقاء سے پہلے کی یا پیٹھ پھیرنے کے بعد۔(فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۶۶۳) سابقہ باب کی روایت نمبر ۱۰۲۴ کے یہ الفاظ ہیں : فَتَوَجَّهَ إِلَى الْقِبْلَةِ يَدْعُو يَدْعُو حال ہے اور اس کے یہ معنی ہیں کہ آپ دعا کرتے ہوئے قبلہ رخ ہوئے۔مگر روایت نمبر ۱۰۲۵ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے ایسا نہیں کیا بلکہ پیٹھ پھیر کر قبلہ رخ ہونے کے بعد دعا شروع کی۔روایت نمبر ۱۰۲۴ سے جو غلط انہی پیدا ہوسکتی ہے اس سے بچانے کے لئے یہ باب قائم کیا گیا ہے۔باب ۱۸: صَلَاةُ الْإِسْتِسْقَاءِ رَكْعَتَيْنِ استسقاء کی نماز دورکعتیں پڑھنا ١٠٢٦: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ :١٠٢٦ قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْن أَبي سفيان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عبداللہ بَكْرٍ عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ عَنْ عَمِهِ أَنَّ بن ابی بکر سے، عبداللہ نے عباد بن تمیم سے عباد نے النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَسْقَى اپنے چا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَقَلَبَ رِدَاءَهُ۔بارش کے لئے دعا مانگی اور آپ نے دو رکعتیں پڑھیں اور اپنی چادر اُلٹائی۔اطرافه ۱۰۰۰، ۱۰۱۱، ۱۰۱۲، ۱۰۲۳، ۱۰۲، ٦٣٤٣ ،۱۰۲۸۰ ،۱۰۲۷،۲ ،۱۰۲۵ تشریح: دور کعتیں نماز پڑھی اور بعض میں صرف دعا کرنے کا ذکر ہے۔اس لئے بعض فقہاء نے استقاء میں نماز کے مسنون ہونے سے انکار کر دیا ہے۔اس بارے میں صحیح مذہب یہ ہے کہ دعائے استسقاء کے لئے نماز بطور شرط نہیں مگر سنت ضرور ہے۔جیسا کہ روایت مذکورہ بالا سے واضح ہے۔یہ روایت نمبر ۱۰۱۲ میں بھی گزر چکی ہے۔اس تعلق میں باب 9 کی تشریح بھی دیکھئے۔صَلاةُ الْإِسْتِسْقَاءِ رَكْعَتَيْن : بعض روایات میں آتا ہے کہ آپ نے بارش کے لئے دعا کی اور بَاب ۱۹ : الْإِسْتِسْقَاءُ فِي الْمُصَلَّى عید گاہ میں بارش کے لئے دعا مانگنا ۱۰۲۷: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ :۱۰۲۷ عبد الله بن محمد (مسندی) نے ہم سے بیان قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْن أَبِي کیا ، کہا : سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔عبداللہ بن بَكْرٍ سَمِعَ عَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ ابى بكر سے مروی ہے کہ عبد اللہ نے عباد بن تمیم سے سنا۔