صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 423 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 423

صحيح البخاری جلد ۲ ۴۲۳ ۱۵ - كتاب الاستسقاء تَمِيْمٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى نے عباد بن تمیم سے، عباد نے اپنے چا ( حضرت عبداللہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَسْقِي فَتَوَجَّهَ إِلَى بن زید سے روایت کی۔انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نماز الْقِبْلَةِ يَدْعُو وَحَوَّلَ رِدَاءهُ ثُمَّ صَلَّى استقاء کے لئے نکلے اور قبلہ رخ ہو کر دعا کرتے رہے اور رَكْعَتَيْنِ جَهَرَ فِيْهِمَا بِالْقِرَاءَةِ۔آپ نے اپنی چادر اُلٹائی۔پھر آپ نے دو رکعتیں پڑھیں۔ان میں بلند آواز سے قرآن مجید پڑھا۔اطرافه: ۱۰۰۵، فریح: ٦٣٤٣ ،۱۰۲۸۰ ،۱۰۲۷ ،۱۰۲۶ ،۱۰۲۵ ،۱۰۲۳ اَلْجَهرُ بِالْقِرَاءَةِ فِي الْاِسْتِسْقَاءِ : اس مسئلہ پر سب کا اتفاق ہے۔(بداية المجتهد۔كتاب الصلاة الثاني۔الباب السابع في الاستسقاء) (فتح الباری جزء ثانی صفحه ۶۶۳) بَاب ۱۷ : كَيْفَ حَوَّلَ النَّبِيُّ ﷺ ظَهْرَهُ إِلَى النَّاسِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پیٹھ لوگوں کی طرف کیسے پھیری؟ ۱۰۲٥: حَدَّثَنَا آدَمُ قَالَ حَدَّثَنَا :۱۰۲۵ آدم ابن ابی عیاض ) نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابْنُ أَبِي ذِنْبِ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبَّادِ (عبد الله ) ابن ابی ذئب نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری بْنِ تَمِيمٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ ہے، زہری نے عباد بن تمیم سے، عباد بن تمیم نے اپنے چچا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا خَرَجَ سے روایت کی۔انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ يَسْتَسْقِي قَالَ فَحَوَّلَ إِلَى النَّاسِ ظَهْرَهُ وسلم کو اس دن ) دیکھا تھا (جس دن ) آپ بارش کی دعا وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ يَدْعُو ثُمَّ حَوَّلَ رِدَاءَهُ مانگنے کے لئے نکلے۔کہا: آپ نے لوگوں کی طرف پیٹھ ثُمَّ صَلَّى لَنَا رَكْعَتَيْنِ جَهَرَ فِيْهِمَا پھیری اور قبلہ رخ ہو کر دعا کرتے رہے۔پھر آپ نے اپنی چادر اُلٹائی۔پھر ہمیں دورکعتیں پڑھائیں۔ان میں آپ بِالْقِرَاءَةِ۔نے بلند آواز سے قرآن کریم پڑھا۔اطرافه: ۱۰۰۵، ۰۱۱ تشریح: ٦٣٤٣ ،۱۰۲۸۰ ،۱۰۲۷ ،۱۰۲۶ ،۱۰۲۹ ،۱۰۲۳ ،۱۰ كَيْفَ حَوَّلَ النَّبِيُّ الا الله ظَهْرَهُ إِلَى النَّاسِ : بعض فقہاء چھوٹی چھوٹی بحثوں میں چلے گئے ہیں۔ان میں سے ایک یہ بحث بھی ہے کہ آیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا پیٹھ پھیر نے فتح الباری مطبوعہ بولاق میں لفظ " لما کی بجائے "یوم" ہے۔(فتح الباری جزء ثانی حاشیہ صفحہ ۶۶۳) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔