صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 422 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 422

صحيح البخاری جلد ۲ ۴۲۲ ۱۵ - كتاب الاستسقاء ☆ عَلَى غَيْرِ مِنْبَرٍ فَاسْتَغْفَرَ ثُمَّ صَلَّی ان کو لے کر اپنے پاؤں پر کھڑے ہوئے منبر پر نہیں اور رَكْعَتَيْنِ يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ وَلَمْ يُؤَذِّنْ بارش * کے لئے دعا کی۔ پھر بلند آواز سے تلاوت وَلَمْ يُقِمْ قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ وَرَأَى عَبْدُ کرتے ہوئے دو رکعتیں پڑھیں۔ ھیں۔ نہ اذان دی اور نہ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقامت کہی ۔ ابوالحق کہتے تھے: حضرت عبداللہ بن یزید (انصاری) نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا۔ ۱۰۲۳: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ :۱۰۲۳ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ شعیب نے ہمیں بتایا۔ زہری سے مروی ہے۔ حَدَّثَنِي عَبَّادُ بْنُ تَمِيمٍ أَنَّ عَمَّهُ وَكَانَ انہوں نے کہا: عباد بن تمیم نے مجھ سے بیان کیا کہ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ان کے چچا نے جو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ میں سے تھے، ان کو بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں وَسَلَّمَ خَرَجَ بِالنَّاسِ يَسْتَسْقِي لَهُمْ کو باہر لے گئے تا ان کے لئے مینہ برسنے کی دعا فَقَامَ فَدَعَا اللَّهَ قَائِمًا ثُمَّ تَوَجَّهَ قِبَلَ کریں۔ آپ کھڑے ہوئے اور کھڑے ے ہی ہی کو کھڑے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ پھر قبلہ کی طرف منہ کیا اور اپنی الْقِبْلَةِ وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ فَأَسْقُوْا ۔ چادر اُلٹائی اور اُن پر بارش ہوئی۔ إطرافه ۱٠٠٥، ۱۰۱۱، ۱۰۱۲، ۱۰۲ ، ۱۰۲۵، ۱۰۲۶، ۱۰۲۷، ١٠٢٨، ٦٣٤٣۔ نبور تشريح : الدُّعَاءُ فِي الْإِسْتِسْقَاءِ قَائِمًا: نماز استقاء مں کھڑے ہوکر دعا کرنا سنت ہو یہ قراردی گئی ہے۔ روایت نمبر ۱۰۲۲ سے معلوم ہوتا۔ حضرت عبداللہ بن یزید انصاری نے بارش کے لئے دعا کر کے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت دو رکعت نماز پڑھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق بھی اسی طرح مروی ہے۔ (روایت نمبر ۱۰۲۴،۱۰۱۴،۱۰۱۲، ۱۰۲۵) بَاب ١٦ : الْجَهْرُ بِالْقِرَاءَةِ فِي الْإِسْتِسْقَاءِ نماز استسقاء میں بلند آواز سے تلاوت کرنا ١٠٢٤ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ ۱۰۲۴: ابونعیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبدالله بن أَبِي ذِلْبٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبَّادِ بْنِ ابی ذئب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری فتح الباری مطبوعہ بولاق میں لفظ ”فَاسْتَغْفَرَ “ کی بجائے فَاسْتَسْقی“ ہے۔ ( فتح الباری جزء ثانی حاشیہ صفحہ (۲۶) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔