صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 409
صحيح البخاری جلد ۲ ۴۰۹ باب : الْإِسْتِسْقَاءُ فِي الْمَسْجِدِ الْجَامِع جامع مسجد میں بارش کے لئے دعا کرنا ۱۵ - كتاب الاستسقاء ۱۰۱۳ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ۱۰۱۳: محمد بن سلام بیکندی) نے ہم سے بیان أَبُو ضَمْرَةَ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ قَالَ حَدَّثَنَا کیا، کہا: ابو ضمرہ انس بن عیاض نے ہم سے بیان کیا، شَرِيْكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ أَنَّهُ :کہا: شریک بن عبداللہ بن ابی نمر نے ہمیں بتایا کہ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكِ يَذْكُرُ أَنَّ رَجُلًا انہوں نے حضرت انس بن مالک سے سنا کہ وہ ذکر کر دَخَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مِنْ بَابِ كَانَ وجَاءَ رہے تھے کہ ایک شخص جمعہ کے دن مسجد نبوی کے اس المنبر وَرَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ دروازے سے داخل ہوا جو منبر کے سامنے تھا اور اس وَسَلَّمَ قَائِمٌ يَخْطُبُ فَاسْتَقْبَلَ رَسُولَ وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا فَقَالَ پڑھ رہے تھے۔وہ کھڑے کھڑے رسول اللہ علیہ کی يَا رَسُوْلَ اللهِ هَلَكَتِ الْمَوَاشِي طرف متوجہ ہوا اور کہا: یا رسول اللہ! مال مویشی وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ فَادْعُ اللهَ يُغِيْتُنَا قَالَ مر گئے اور راستے بند ہو گئے اس لیے آپ اللہ سے دعا فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کریں کہ ہم پر مینہ برسائے۔(حضرت انس) کہتے يَدَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ اسْقِنَا اللَّهُمَّ اسْقِنَا تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اٹھا کر کہا: اے اللہ ! ہمیں پانی پلا۔اے اللہ! ہمیں پانی اللَّهُمَّ اسْقِنَا قَالَ أَنَسٌ لَا وَاللَّهِ مَا نَرَى پلا۔اے اللہ ! ہمیں پانی پلا۔حضرت انس کہتے تھے : فِي السَّمَاءِ مِنْ سَحَابِ وَلَا قَرَعَةً وَلَا اللہ کی قسم ہم آسمان میں نہ بادل دیکھتے تھے نہ بادل کا شَيْئًا وَمَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ سَلْعِ مِنْ بَيْتٍ وَلَا کوئی کڑا اور نہ کوئی اور چیز اور نہ ہمارے اور سلع پہاڑ قَالَ فَطَلَعَتْ مِنْ وَرَائِهِ سَحَابَةٌ کے درمیان کوئی گھر یا مکان تھا ( کہ آسمان اوٹ میں دَارٍ مِثْلُ التَّرْسِ فَلَمَّا تَوَسَّطَتِ السَّمَاءَ ہو) کہتے تھے: اتنے میں اس پہاڑ کے پیچھے سے ایک التَشَرَتْ ثُمَّ أَمْطَرَتْ قَالَ وَاللَّهِ مَا رَأَيْنَا بدلی نمودار ہوئی، ڈھال کے برابر تھی۔جب وہ جد فتح الباری مطبوعہ بولاق میں لفظ الْمَوَاشِی" کی بجائے الاموال“ ہے۔(فتح الباری جزء ثانی حاشیہ صفحہ ۶۴۶)