صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 408 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 408

صحيح البخاری جلد ۲ ۴۰۸ ۱۵ - كتاب الاستسقاء رکھی جاتی۔نماز میں رونا ایک مستحب فعل ہے۔بشرطیکہ خوف الہی یا گناہ کی ندامت یا محبت الہی اس کا باعث ہولیکن اگر یہ نہیں اور تکلف سے رویا جارہا ہے تو ایسی نماز باطل ہوگی۔اسی طرح اگر نماز استسقاء میں چادر کا الٹانا کسی حقیقت کے ساتھ وابستہ نہیں اور محض ایک نقل ہے تو یہ فعل بھی عبث ہوگا۔ابن العربی کا خیال ہے کہ یہ ایک علامت ہے کہ حالت تبدیل ہو جائے گی جس کا انکشاف نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بجلی الہی کے تحت ہوا اور آپ نے اسی وقت نماز کی حالت میں اس کا اظہار فرمایا۔(فتح الباری جزء ثانی صفحه ۱۴۳) یہ قیاس صحیح ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دوسرے وقت میں استقاء کی دعا کرتے ہوئے اپنی چادر نہیں الٹائی (ہاب سے روایت نمبر ۱۰۱۴) عَبْدُ اللهِ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَاصِمِ الْمَازِنِيُّ : روایت نمبر ۱۰۱۲ کے راوی حضرت عبداللہ بن زید کے متعلق شبہ تھا کہ آیا یہ وہی ہیں جن کو خواب میں اذان دکھائی گئی تھی یا کوئی اور۔از روئے تحقیق امام بخاری وہ اور ہیں۔نیز مازن کے نام سے کئی اور قبیلے بھی ہیں مثلا مازن تمیم، مازن قیس، مازن ضبہ اور مازن شیبان۔(فتح الباری جزء ثانی صفحه ۶۴۵) بابه اِنْتِقَامُ الرَّبِّ جَلَّ وَعَزَّ مِنْ خَلْقِهِ بِالْقَحْطِ إِذَا انْتَهَكَتْ مَحَارِمُ اللَّهِ رب عزوجل کا اپنی مخلوق کو قحط کے ذریعے سزاد بنا جب اللہ کے محارم کی بہتک کی جائے تشریح: انتَقَامُ الرَّبِّ جَلَّ وَعَزَّ مِنْ خَلْقِهِ بِالْقَحْطِ : انتقام کے معنے ہیں: ناراضگی کا اظہار کرنا اور سزا دینا۔(لسان العرب تحت لفظ فقم) محرم وہ بات ہے جس کی ممانعت کی گئی ہو۔(لسان العرب تحت لفظ حرم ) جب بدکاری پھیل جاتی اور ظلم کا غلبہ ہو جاتا ہے تو تقدیر الہی کی گرفت قسم قسم کے عذابوں کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے اور اس وقت رحمت اسی میں ہوتی ہے کہ جزو فاسد دور کر کے نوع انسان کو اس کے بداثر سے بچایا جائے۔تحھ بھی ان عذابوں میں سے ایک عذاب الیم ہے۔باب ۲ میں حضرت عبد اللہ بن مسعود کی روایت نمبر ۱۰۰۷ گذر چکی ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہ عذاب ہیبت ناک شکل میں ظاہر ہوا۔باب مذکور صرف حموی کے نسخہ صحیح بخاری میں ہے۔شارحین کی رائے ہے کہ روایت نمبر ۱۰۰۷ اس باب کے مطابق تھی مگر چونکہ امام بخاری کو کسی اور سند سے ید روایت نہیں ملی اس لئے اس کو درج باب نہیں کیا۔(فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۶۴۵ ، ۶۴۶) امام موصوف کی عادت ہے کہ جب ایک روایت کسی نئے مسئلے کے لئے دہراتے ہیں تو اس کو نئی سند سے نقل کرتے ہیں۔اس تعلق میں دیکھئے کتاب الاستسقاء تشریح باب ۶، ۷ مع متعلقہ روایات اور باب ۱۱،۱۰ مع روایات۔جن لوگوں نے صحیح بخاری کی مکرر روایات حذف کر کے اس کی جگہ تجرید بخاری کتاب وضع کی ہے انہوں نے غلطی کی ہے اور امام موصوف کی قدر و قیمت نہیں پہچانی۔