صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 410
صحيح البخاری جلد ۲ ۴۱۰ ۱۵ - كتاب الاستسقاء الشَّمْسَ شِمَّا ثُمَّ دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ ذَلِكَ آسمان کے وسط میں آئی تو پھیل گئی۔پھر برسنے لگی۔الْبَابِ فِي الْجُمُعَةِ الْمُقْبِلَةِ وَرَسُوْلُ کہتے تھے: اللہ کی قسم! ہم نے ہفتہ بھر سورج نہ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يَخْطُبُ دیکھا۔پھر آئندہ جمعہ کو ایک شخص اسی دروازہ سے مسجد فَاسْتَقْبَلَهُ قَائِمًا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ میں آیا اور اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑ۔هَلَكَتِ الْأَمْوَالُ وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ خطبہ پڑھ رہے تھے۔وہ کھڑے کھڑے آپ کی فَادْعُ اللَّهَ يُمْسِكْهَا قَالَ فَرَفَعَ رَسُوْلُ طرف متوجہ ہوا اور کہا: یا رسول اللہ ! مال مویشی مر گئے اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ اور راستے بند ہو گئے۔اللہ سے دعا کیجئے کہ بارش روک اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا اللَّهُمَّ عَلَى لے۔کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے الْآكَامِ وَالْجِبَالِ } وَالظُّرَابِ دونوں ہاتھ اٹھا کر کہا: یا اللہ ! ہمارے اردگرد بارش ہو وَالْأَوْدِيَةِ وَمَنَابِتِ الشَّجَر فَانْقَطَعَتْ اور ہم پر نہ ہو۔یا اللہ ! ٹیلوں اور پہاڑوں اور ٹیکروں وَخَرَجْنَا نَمْشِي فِي الشَّمْس قَالَ اور وادیوں اور درخت اگنے کے مقامات پر بارش ہو۔شَرِيكَ فَسَأَلْتُ أَنسًا أَهْوَ الرَّجُلُ (حضرت انس کہتے تھے ) اتنے میں بارش بند ہوگئی۔اور ہم نکلے، دھوپ میں چلنے پھرنے لگے۔شریک کہتے الْأَوَّلُ قَالَ لَا أَدْرِي۔تھے کہ میں نے حضرت انسؓ سے پوچھا: کیا یہ پہلا شخص ہی تھا ؟ انہوں نے کہا: میں نہیں جانتا۔اطرافه: ۹۳۲، ۹۳۳، ۱۰۱۹، ۱۰۲۱، ۱۰۲۹، ۱۰۳۳، ۳۵۸۲، ٦٠٩٣، ٦٣٤٢۔تشریح: الْإِسْتِسْقَاءُ فِى الْمَسْجِدِ الْجَامِعِ : جمہور کا مذہب ہے کہ بارش کی دعا کے لئے بستی سے باہر جانا شرط ہے۔(بداية المجتهد۔كتاب الصلاة الثاني۔الباب السابع في الاستسقاء) امام بخاری کے نزدیک یہ شرط نہیں۔بلکہ لوگوں کا اکٹھا ہونا شرط ہے۔دعائے استسقاء مسجد جامع میں بھی ہوسکتی ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جامع مسجد میں جمعہ کے دن منبر پر کھڑے کھڑے دعا کی جو قبول ہوئی۔فتح الباری مطبوعہ بولاق میں لفظ یا کی بجائے "سبا" ہے۔(فتح الباری جزء ثانی حاشیہ صفحہ ۶۴۶) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔لفظ " وَالْجِبَالُ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے۔(فتح الباری جزء ثانی حاشیہ صفحہ ۶۴۶) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔