صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 382
صحيح البخاری جلد ۲ ۳۸۲ ١٣ - كتاب العيدين نمبر ۳۴،۳۳،۳۲ ، ۳۵ میں گذر چکا ہے۔ خطبہ عید میں بھی بلکہ ہر متکلم کی گفتگو کے اثناء میں بولنا منع ہے۔ (دیکھئے کتاب العلم، باب ۲ روایت نمبر ۵۹) امام بخار ایت نمبر ۵۹) امام بخاری نے عنوان باب صیغہ مصدر سے قائم کر ۔ سے قائم کر کے اس مسئلہ کے جواز یا عدم جواز کی صورت مقرر کر دی ہے اور اس کے ساتھ وَإِذَا سُئِلَ الإِمَامُ کی شرط بڑھا کر اشارہ کیا ہے کہ کسی کا امام سے مسئلہ پوچھنا اور امام کا اس کو جواب دینا منع نہیں ۔ عام باتیں کرنا منع ہے۔ امام موصوف نے مسئلہ معنونہ کے متعلق اپنی رائے ظاہر نہیں کی لیکن جس واقعہ سے جواز کی صورت استنباط کی جاسکتی ہے اس کو تین سندوں سے پیش کیا ہے۔ آخری سند یعنی روایت نمبر ۹۸۵ کے الفاظ ثُمَّ ذَبَحَ وَقَالَ سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ نے خطبہ پڑھنے اور قربانی کرنے کے بعد وہ بات فرمائی تھی جس پر حضرت ابو بردہ بن نیار کو مسئلہ پوچھنے کی ضرورت پیش آئی ۔ سامعین کو اثنائے خطبہ پوچھنے کی اجازت دینا درحقیقت خطیب کے لئے مشکلات پیدا کرنا ہے۔ اس لئے امام موصوف نے یہ روایت تینوں سندوں سے پیش کر کے سکوت سے کام لیا ہے۔ بَاب ٢٤ : مَنْ خَالَفَ الطَّرِيقَ إِذَا رَجَعَ يَوْمَ الْعِيدِ جو شخص دوسرے رستہ سے آئے ، جب وہ عید کے دن لوٹے ٩٨٦: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ۹۸۶: محمد (بن سلام ) نے ہم سے بیان کیا، کہا: أَبُو نُمَيْلَةَ يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ عَنْ فُلَيْحِ ابو تميلہ کی بن واضح نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے فلیح بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ بن سلیمان سے فلیح نے سعید بن سے، حج نے سعید بن حارث سے، سعید عَنْ جَابِرٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى الله نے حضرت جابر سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ يَوْمُ عِيْدٍ خَالَفَ صلی اللہ علیہ وسلم جب عید کا دن ہوتا تو ایک راستے الطَّرِيقَ تَابَعَهُ يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ سے جاتے اور دوسرے راستے سے آتے۔ (ابو میلہ فَلَيْحٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ کی طرح یونس بن محمد نے بھی فلیح سے فلیح نے سعید وَحَدِيثُ جَابِرٍ أَصَحُ۔ سے سعید نے حضرت ابو ہریرہ ہم سے یہ روایت نقل ، کی ہے اور حضرت جابر کی روایت زیادہ صحیح ہے۔ الفاظ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ابن السکن کی روایت کے مطابق ہیں۔ ( فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۶۱۰ ) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔