صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 383
البخارى ی جلد ۲ ٣٨٣ ۱۳ - كتاب العيدين تشریح: مَنْ خَالَفَ الطَّرِيقَ إِذَا رَجَعَ يَوْمَ الْعِيدِ : امام بخاری نے اس باب کا عنوان قائم کرنے میں بھی احتیاط سے کام لیا ہے اور جملہ شرطیہ کا جواب مقدر کر دیا ہے۔اکثر علماء نے اس سنت کی اتباع مستحب سمجھی ہے اور اس کی مختلف تو جیہیں بیان کیا ہیں۔جن میں سے ایک یہ ہے کہ اس طرح سارے شہر میں چکر لگانے کا موقع ملتا ہے۔جس سے دوسرے لوگوں کو بھی اسلامی جمیعت اور اس کی ترقی کا اندازہ لگ جاتا ہے۔مگر چونکہ اس بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی ارشاد منقول نہیں۔اس لئے احتیاطاً خاموشی اختیار کی گئی ہے۔تَابَعَهُ يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ فُلَيْحِ : روایت نمبر ۹۸۶ کے آخر میں یونس بن محمد کی سند کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔اس سند میں بجائے حضرت جابڑ گئے حضرت ابو ہریرہ سے یہ روایت نقل کی گئی ہے۔اس کی تفصیلی بحث کے لیے دیکھئے فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۶۱۰۔باب ٢٥ : إِذَا فَاتَهُ الْعِيْدُ يُصَلِّي رَكْعَتَيْن اگر عید کی نماز نہ ملے تو دور کعتیں اکیلے ہی پڑھ لے وَكَذَلِكَ النِّسَاءُ وَمَنْ كَانَ فِي اور اسی طرح عورتیں بھی اور وہ لوگ بھی جو گھروں الْبُيُوْتِ وَالْقُرَى لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ اور گاؤں میں ہوں کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا عِيدُنَا أَهْلَ الْإِسْلَامِ فرمایا: (اے) اہل اسلام ! یہ ہماری عید ہے وَأَمَرَ أَنَسُ بْنُ مَالِكِ مَوْلَاهُمُ ابْنَ أَبِي اور حضرت انس بن مالک نے اپنے غلام ابن ابی عُتْبَةَ بِالزَّاوِيَةِ فَجَمَعَ أَهْلَهُ وَبَنِيْهِ عتبہ کو جو زاویہ میں تھے حکم دیا تو انہوں نے اپنے گھر وَصَلَّى كَصَلَاةِ أَهْلَ الْمِصْر والوں اور بیٹوں کو جمع کیا اور شہر والوں کی طرح عید وَتَكْبِيْرِهِمْ وَقَالَ عِكْرِمَةُ أَهْلُ السَّوَادِ کی نماز پڑھائی۔ویسی ہی تعبیر میں کہیں اور عکرمہ يَجْتَمِعُوْنَ فِي الْعِيْدِ يُصَلُّوْنَ رَكْعَتَيْن کہتے تھے: دیہات والے بھی عید کے دن اکٹھے ہوں دورکعتیں پڑھیں۔جس طرح کہ امام پڑھتا ہے اور عطاء بن ابی رباح نے کہا: اگر عید کی نماز اسے نہ ملے تو دور کعتیں پڑھ لے۔۹۸۷: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ قَالَ :۹۸ یحی بن بکیر نے ہم سے بیان کیا، کہا کہ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلِ عَنِ ابْنِ ليث بن سعید ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عقیل كَمَا يَصْنَعُ الْإِمَامُ وَقَالَ عَطَاءٌ إِذَا فَاتَهُ الْعِيْدُ صَلَّى رَكْعَتَيْن۔