صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 378
صحيح البخاری جلد ۲ ۳۷۸ ١٣ - كتاب العيدين مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ میں ستر کی یہی صورت بیان کی گئی ہے۔ موجودہ برقعہ بہت بعد کی ایجاد ہے۔ باب نمبر ۱۲۰ اور ۲۱ کے عناوین اور روایت نمبر ۹۸۰، ۹۸۱ سے ظاہر ہے کہ عید میں عورتوں کا شریک ہونا ضروری ہے۔ جلباب وغیرہ کا نہ ہونا ان کو معذور نہیں ٹھہراتا۔ جلباب چونکہ بدن کی پوشاک ڈھانکنے کیلئے ہوتا تھا۔ اس لئے وہ اتنا فراخ ہوتا کہ دو عورتیں اکٹھی چلتے ہوئے اس کو پردے کی غرض سے استعمال کر سکتی تھیں۔ بڑی چادر ہو تو وہ بھی دوسری عورت کو اوڑھائی جاسکتی ہے۔ باب ۲۱ : اِعْتِزَالُ الْحُيَّضِ الْمُصَلَّى حیض والیوں کا نماز کی جگہ سے الگ رہنا ۹۸۱: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى :۹۸۱ محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا، کہا: (محمد بن قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِي عَنِ ابْنِ ابراہیم بن ابی عدی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عَوْنٍ عَنْ مُّحَمَّدٍ قَالَ قَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ ( عبد الله ) بن عون سے، انہوں نے محمد (بن أُمِرْنَا أَنْ نَّخْرُجَ فَتَخْرِجَ الْحُيَّضَ سیرین) سے روایت کی کہ وہ کہتے تھے : حضرت ام وَالْعَوَائِقَ وَذَوَاتِ الْخُدُوْرِ قَالَ ابْنُ عطیہ نے کہا: ہمیں حکم ہوا کہ ہم ( عید کے دن) نکلیں عَوْنٍ أَوِ الْعَوَاتِقَ ذَوَاتِ الْخُدُوْرِ فَأَمَّا تو ہم حیض والیوں ں والیوں اور جوان عورتوں اور پردہ ہ نشینوں کو الْحُيَّضُ فَيَشْهَدْنَ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ بھی باہر لے جائیں۔ ابن عون کہتے تھے: یا (یوں کہا: ) پرده نشین جوان عورتوں کو اور جو حائضہ ہوں وہ وَدَعْوَتَهُمْ وَيَعْتَزِلْنَ مُصَلَّاهُمْ۔ مسلمانوں کی جماعت اور دعا میں شریک ہوں ۔ مگر ان کی نماز کی جگہ سے الگ رہیں۔ اطرافه: ۳٢٤ ، ۳۵۱، ۹۷۱، ٩٧٤، ٩٨٠، ١٦٥٢۔ تشریح : اعْتِزَالُ الْحُيَّضِ الْمُصَلَّى : عورتوں کو حائضہ ہوئے ہونے کی حالت میں نماز گاہ سے الگ - رہنے کا حکم اس لئے ہے کہ عورتوں کی صف بندی میں خلل نہ آئے کیونکہ وہ نماز نہیں پڑھ سکتیں اور یہ پابندی اس لئے نہیں کہ نماز گاہ اور مقامات مقدسہ ان کی موجودگی سے ناپاک ہو جاتے ہیں۔ اس تعلق میں روایت نمبر ۹۸۰ کا آخری حصہ بھی دیکھئے جس میں حضرت ام عطیہ وضاحت سے حفصہ کے شبہ کا ازالہ کرتی ہیں اور دیکھتے كتاب الحیض باب ۳۰ روایت نمبر ۳۳۳-