صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 379 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 379

حيح البخاری جلد ۲ ٣٧٩ ۱۳ - كتاب العيدين الْعَوَاتِقُ وَذَوَاتُ الْخُدُورِ : عوائق جمع ہے عالق کی بمعنے دوشیزہ جو بلوغت کو پہنچ گئی ہو۔(لسان العرب تحت لفظ عتق ) ذَوَاتُ الْخُدُورِ سے مراد پردہ دار جوان عورتیں ہیں۔جذر کے معنی ہیں پردہ یا وہ حصہ مکان جو لڑ کیوں کی سکونت کے لئے مخصوص ہو۔(لسان العرب تحت لفظ خدر ) باب ۲۲ : النَّحْرُ والذَّبْحُ يَوْمَ النَّحْرِ بِالْمُصَلَّى عیدالاضحیہ کے دن عیدگاہ میں (اونٹ اور دیگر جانوروں) کا ذبح کرنا ۹۸۲ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ :۹۸۲ عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي كَثِيرُ کہا: لیث نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: بْنُ فَرْقَدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ كثير بن فرقد نے مجھے بتایا۔انہوں نے نافع سے، النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ نافع نے حضرت ابن عمر سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ میں اونٹ کی یا دوسرے يَنْحَرُ أَوْ يَذْبَحُ بِالْمُصَلَّى۔اطرافه ۱۷۱۰ ، ،۱۷۱۱، ٥٥٥۱ ٥٥٥٢ تشریح جانور کی قربانی کرتے۔النَّحْرُ وَالذَّبْحُ يَوْمَ النَّحْرِ بِالْمُصَلَّى : ان جانوروں کا شہر سے باہر ذبح کرنا قواعد طبیہ کے لحاظ سے بھی پسندیدہ بات ہے۔عید الاضحیہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کرنے کے بعد گھر لوٹتے اور کھانا تناول فرماتے اسی وجہ سے امام موصوف نے باب ۵ قائم کر کے استدلالاً اس طرف اشارہ کیا ہے کہ اس دن کھانا نماز اور قربانی کے بعد کھانا مسنون ہے۔باب ۲۳ : كَلَامُ الْإِمَامِ وَالنَّاسِ فِي خُطْبَةِ الْعِيْدِ وَإِذَا سُئِلَ الْإِمَامُ عَنْ شَيْءٍ وَهُوَ يَخْطُبُ عید کے خطبے میں امام اور لوگوں کا کلام کرنا اور اگر امام سے کچھ پوچھا جائے جبکہ وہ خطبہ دے رہا ہو ۹۸۳ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا :۹۸۳ مسدد بن مسرہد ) نے ہم سے بیان کیا، کہا: