صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 377
البخاري ی جلد ۲ ۳۷۷ ١٣ - كتاب العيدين قَالَ لِيَخْرُجِ الْعَوَاتِقُ ذَوَاتُ الْخُدُورِ انہوں نے کہا: ہاں۔میرا باپ آپ پر قربان اور جب بھی أَوْ قَالَ الْعَوَاتِقُ وَذَوَاتُ الْخُدُورِ شَكٍّ وہ نبی صلی اللہ علیہ سلم کا ذکر کرتیں تو کہتیں میرا باپ آپ پر أَيُّوبُ وَالْحُيَّضُ وَيَعْتَزِلُ الْحَيَّض قربان ہو۔آپ نے فرمایا: پردہ دار جوان عورتیں یا فرمایا: الْمُصَلَّى وَلْيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ چاہیے جو ان عورتیں اور پردہ نشین بھی نکلیں؟ ایوب نے الْمُؤْمِنِيْنَ قَالَتْ فَقُلْتُ لَهَا الْحُيَّضُ شک کیا ) کہ ان دونوں میں سے کونسے الفاظ تھے ) اور حیض والیاں بھی نکلا کریں مگر حیض والیاں نماز گاہ سے الگ رہیں اور نیک کاموں اور مومنوں کی دعا میں شریک ہوں۔( حفصہ ) کہتی تھیں کہ میں نے ان سے کہا: کیا حیض والیاں بھی نکلیں؟ تو انہوں نے جواب دیا: ہاں۔کیا حائضہ (حج کے موقع پر عرفات میں موجود نہیں ہوتی اور فلاں فلاں مقام میں بھی حاضر نہیں ہوتی ؟ قَالَتْ نَعَمْ أَلَيْسَ الْحَائِضُ تَشْهَدُ عَرَفَاتٍ وَتَشْهَدُ كَذَا وَتَشْهَدُ كَذَا۔اطرافه ۳۲٤ ،۳۵۱ ،۹۷۱، ۹۷۴، ۹۸۱، ١٦٥٢۔تشریح: عربی وہ جو بدن کے إِذَا لَمْ يَكُنْ لَّهَا جِلْبَابٌ فِى الْعِيدِ : جلباب عربی زبان میں وہ کپڑا ہے جو بدن کے کپڑوں کے اوپر پہنا جاتا ہے اور عباء کی طرح سلا ہوا ہوتا ہے اور فراخ ہوتا ہے۔کندھوں پر ڈال لیا جاتا ہے۔جیسے عباء پہنی جاتی ہے اور اس سے بدن کے کپڑے سینہ اور ہاتھ چھپ جاتے ہیں۔اگر اس کو سر پر لے لیا جائے تو اوڑھنی کا کام بھی دیتا ہے۔زمانہ جاہلیت میں عورتیں نمائش کی عادی تھیں وہ اپنے جلباب کے سامنے کا حصہ کھلا چھوڑ دیتی تھیں جس سے چھاتی وغیرہ کا سامنے کا حصہ ظاہر ہو جاتا۔اسی وجہ سے قرآن مجید میں ان کو حکم ہوا: يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ يُعْرِفْنَ فَلَا يُؤْذِينَ (الاحزاب:۲۰) اپنے جلباب (بڑی چادر میں ) سرکا کر نیچے لے آئیں تا آسانی سے پہنچانی جائیں ( کہ وہ مسلمان عورتیں ہیں ) اور انہیں تکلیف نہ دی جائے۔۱۹۱۴ء اور پھر ۱۹۲۵ء میں مجھے عراق عرب اور بغداد میں رہنے کا موقع ملا اور اثنائے قیام میں شہروں اور بدوی قبائل میں بھی جانے کا موقع ملا اور میں نے قبائل میں دیکھا اور تمص اور بغداد میں عرب عیسائی اور یہودی عورتوں کو بھی دیکھا کہ وہ جلباب پہن کر باہر کھلتیں اور سامنے سے اسے کھلا چھوڑ دیتیں۔مردوں کو دیکھ کر وہ جلباب کا وہ حصہ جوسر پر ہوتا اسے سرکا کر اپنے چہرے کو چھپالیتیں جیسے پنجاب میں عورتیں گھونگھٹ سے اپنا چہرہ چھپاتی ہیں اور اسی طرح جلباب کو سامنے سے بھی سمیٹ کر اس کے دونوں حصوں کو قریب کر لیتیں اور اس طرح ان کا سینہ بھی چھپ جاتا۔جس سے میں یہ سمجھا کہ حکم يُدْنِينَ