صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 376 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 376

حيح البخاری جلد ۲ بَاب ٢٠: إِذَا لَمْ يَكُنْ لَهَا جِلْبَابٌ فِي الْعِيْدِ عید میں جب عورت کے پاس جلباب نہ ہو ( تو کیا کرے؟) ١٣ - كتاب العيدين ۹۸۰ : حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا :۹۸۰ ابو معمر نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبدالوارث عَبْدُ الْوَارِثِ قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: ایوب نے ہمیں حَفْصَةَ بِنْتِ سِيْرِيْنَ قَالَتْ كُنَّا نَمْنَعُ بتایا۔حفصہ بنت سیرین سے مروی ہے کہ وہ کہتی تھیں: جَوَارِينَا أَنْ يَخْرُجْنَ يَوْمَ الْعِيدِ ہم اپنی لڑکیوں کو عید کے دن باہر نکلنے سے منع کیا کرتی فَجَاءَتِ امْرَأَةٌ فَنَزَلَتْ قَصْرَ بَنِي خَلَفٍ تھیں۔ایک عورت آئی۔وہ بنی خلف کے محل میں اتری فَأَتَيْتُهَا فَحَدَّثَتْ أَنَّ زَوْجَ أُخْتِهَا غَزَا ( جو بصرہ میں تھا) میں اس کے پاس آئی۔اس نے بیان مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثِنْتَيْ کیا کہ اس کے بہنوئی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عَشْرَةَ غَزْوَةً فَكَانَتْ أُخْتُهَا مَعَهُ فِي باره غزوات کئے تھے اور چھ غزوات میں اس کی بہن بھی ستِ غَزَوَاتٍ فَقَالَتْ فَكُنَّا نَقُومُ عَلَى آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھی۔اس نے کہا: ہم الْمَرْضَى وَيُدَاوِي الْكَلْمَى فَقَالَتْ یا بیماروں کی خدمت کیا کرتیں اور زخمیوں کا علاج معالجہ رَسُوْلَ اللهِ { أَعَلَى إِحْدَانَا بَأْسٌ إِذَا کرتیں اور اس نے پوچھا: یا رسول اللہ! اگر ہم میں سے لَمْ يَكُن لَّهَا جِلْبَابٌ أَنْ لَّا تَخْرُجَ فَقَالَ کسی کے پاس جلباب نہ ہو اور وہ عید کے دن نہ نکلے۔تو لِتُلْبِسْهَا صَاحِبَتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا کیا * کوئی حرج ہے؟ آپ نے فرمایا: اس کی ساتھن فَلْيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُؤْمِنِينَ اپنے جلباب کا ایک حصہ اسے اوڑھا دے اور چاہیے کہ قَالَتْ حَفْصَةُ فَلَمَّا قَدِمَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ عورتیں نیک کاموں میں اور مومنوں کی دعا میں شریک ہوا أَتَيْتُهَا فَسَأَلْتُهَا أَسَمِعْتِ فِي كَذَا وَكَذَا کریں۔حفصہ کہتی تھیں۔جب حضرت ام عطیہ قَالَتْ نَعَمْ بِأَبِي وَقَلَّمَا ذَكَرَتِ النَّبِيَّ (بصرہ میں آئیں تو میں ان کے پاس آئی اور ان سے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا قَالَتْ بِأَبِي پوچھا: کیا آپ نے فلاں فلاں بات کے متعلق سنا ہے؟ لفظ ” أعلى فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے۔(فتح الباری جزء ثانی حاشیہ صفحہ ۶۰۴)