صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 375
ی جلد ۲ ۳۷۵ ١٣ - كتاب العيدين يُجَلِسُ بِيَدِهِ ثُمَّ أَقْبَلَ يَشْقُهُمْ حَتَّى آپ صفوں کو چیرتے ہوئے عورتوں کے پاس آئے۔جَاءَ النِّسَاءَ مَعَهُ بِلَالٌ فَقَالَ يَا أَيُّهَا حضرت بلال آپ کے ساتھ تھے۔آپ نے (سورۃ النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ مُمتحنہ کی یہ آیتیں) پڑھیں: {اے نبی! جب مومن الآيَةَ (الممتحنة: ١٣) ثُمَّ قَالَ حِيْنَ ثُمَّ قَالَ حِيْنَ فَرَغَ عورتیں تیرے پاس آئیں (اور ) اس (امر) پر تیری مِنْهَا آلتُنَّ عَلَى ذَلِكِ قَالَتِ امْرَأَةٌ بیعت کریں۔جب آپ ان آیات کی تلاوت وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ لَمْ يُجِبْهُ غَيْرُهَا نَعَمْ لَا سے فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا: کیا تم ان باتوں پر قائم ہو؟ اس پر اُن میں سے ایک عورت نے کہا: ہاں۔يَدْرِي حَسَنْ مَنْ هِيَ قَالَ فَتَصَدَّقْنَ دوسری عورتوں نے آپ کو جواب نہیں دیا۔حسن ( بن فَبَسَطَ بِلَالٌ ثَوْبَهُ ثُمَّ قَالَ هَلُمَّ لَكُنَّ مسلم) نہیں جانتے کہ وہ کون تھی۔آپ نے فرمایا اچھا فدَاءً أَبي وَأُمِّي فَيُلْقِيْنَ الْفَتَحَ صدقہ دو۔حضرت بلال نے اپنا کپڑا پھیلا دیا اور کہا: وَالْخَوَاتِيْمَ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ قَالَ عَبْدُ لاؤڈالو۔میرے ماں باپ تم پر قربان اور وہ چھلے اور الرَّزَّاقِ الْفَتَحُ الْحَوَاتِيْمُ الْعِظَامُ كَانَتْ انگوٹھیاں حضرت بلال کے کپڑے میں ڈالتی جاتی تھیں۔فِي الْجَاهِلِيَّة۔عبدالرزاق نے کہا: فتح کے معنی بڑی انگوٹھیوں کے ہیں جو زمانہ جاہلیت میں ہوا کرتی تھیں۔اطرافه ۹۸، ٨٦٣، ٩٦٢، ٩٦٤، ۹۷۵، ۹۷۷، ۹۸۹، ١٤۳۱، ١٤٤٩، ٤٨٩٥، ۷۳۲۵ ،۵۸۸۳ ،۰۸۸۱ ،۵۸۸۰ ،٥٢٤٩ تشریح: مَوْعِظَةُ الْإِمَامِ النِّسَاءَ: جس وجہ سے یہ باب قائم کیا گیا ہے وہ روایت نمبر ۹۷۸ کے مضمون سے واضح ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے بعد ایک ایسا زمانہ آیا جس میں عورتوں کی شرکت اجتماعی کاموں میں معیوب سمجھی جانے لگی اور پھر آہستہ آہستہ بیرونی دنیا سے ان کے تعلقات کا لعدم ہو گئے حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اور آپ کے بعد بھی وہ مردوں کے ساتھ جنگوں میں شریک ہوتیں اور زخمیوں کی مرہم پٹی اور تیمارداری کرتی تھیں۔(دیکھئے روایت نمبر ۹۸۰) اسلام نے پردہ ان معنوں میں ہرگز جاری نہیں کیا تھا جن معنوں میں آجکل مسلمانوں میں رواج دیا گیا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کو جو الگ نصیحت کرنے گئے ہیں تو اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ آپ کی آواز نہیں سن سکتی تھیں، نشیب میں بیٹھی ہوئی تھیں جیسا کہ لفظ کون سے ظاہر ہے۔