صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 363
البخاری جلد ۲ م م ١٣ - كتاب العيدين قَالَ دَخَلَ الْحَجَّاجُ عَلَى ابْنِ عُمَرَ وَأَنَا حجاج حضرت ابن عمر کے پاس آئے اور میں ان کے عِنْدَهُ فَقَالَ كَيْفَ هُوَ فَقَالَ صَالِحٌ پاس تھا۔حجاج نے پوچھا: یہ ( زخم ) کیسا ہے؟ انہوں نے فَقَالَ مَنْ أَصَابَكَ قَالَ أَصَابَنِي مَنْ أَمَرَ کہا: اچھا ہے۔حجاج نے کہا: آپ کو کس نے مارا ہے۔بِحَمْلِ السّلَاحِ فِي يَوْمِ لَا يَحِلُّ فِيْهِ انہوں نے جواب دیا: مجھے اس نے مارا ہے جس نے ایسے دن ہتھیار اٹھانے کا حکم دیا ہے، جس میں اس کا حَمْلُهُ يَعْنِي الْحَجَّاجَ۔اطرافه: ٩٦٦۔تشریح: اُٹھانا جائز نہیں اور اس سے ان کی مراد حجاج تھا۔مَا يُكْرَهُ مِنْ حَمُلِ السّلاح فِى الْعِيدِ وَالْحَرَمِ : باب میں حبشیوں کا عید کے دن مسجد میں ہر چھیوں سے کھیلنے کا ذکر گذر چکا ہے مگر یہ کھیل عید کے بعد اور ایسی حالت میں ہوا کہ تماشہ دیکھنے والے محفوظ تھے لیکن عید گاہ اور حرم میں حج کے موقع پر لوگ اس طرح ملے جلے ہوتے ہیں کہ وہاں ہتھیار اٹھائے پھرنا خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔اس لئے عام حالات میں ان کا اٹھانا مناسب نہیں۔عنوان باب میں حسن بصری کا فتوی نقل کرنے کی ضرورت اس لئے پیش آتی ہے کہ حضرت ابن عمر کے جواب لَا يَحِلُّ فِيْهِ حَمْلَهُ سے مترشح ہوتا ہے کہ عید کے دن ہتھیار اٹھا نا مطلق ناجائز ہے۔فتویٰ مذکور کی تفصیل کے لئے دیکھئے فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۵۸۶ نیز باب ۱۳ ۱۴ بھی دیکھئے۔جن میں جواز کی دو صورتیں مذکور ہیں۔حضرت ابن عمر کے زخمی ہونے کا واقعہ حضرت ابن زبیر کی شہادت کے بعد کا ہے۔ان دنوں حجاج بن یوسف ثقفی حجاج کے امیر تھے اور خانہ جنگیوں کی وجہ سے حج کے موقع پر بھی حرم میں حجاج اپنے سپاہیوں سمیت ہتھیار باندھے تھا۔بعض کا خیال ہے کہ چونکہ عبد الملک نے حجاج کو حضرت ابن عمرؓ کی مخالفت سے حکماً روکا تھا، اس لئے اس نے اپنے ایک آدمی کے ذریعے سے ان کو زہر آلود بھالے سے عمد ازخمی کروایا تھا۔وہ اس زخم کی وجہ سے ۷۴ ھ میں فوت ہوئے۔(فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۵۸۷) مگر یہ خیال غلط ہے کیونکہ حجاج بن یوسف ایک عالم دین اور مسائل سے پوری واقفیت رکھنے والے تھے۔حضرت عبداللہ بن عمر کی مراد یہ معلوم ہوتی ہے کہ حجاج نے اس اجازت میں ضروری احتیاط نہیں کی جس سے حرم کی حرمت قائم نہیں رہی۔بَابِ ١٠ : التَّبْكِيْرُ إِلَى الْعِيْدِ عید کے لئے سویرے جانا وَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ بُسْرٍ إِنْ كُنَّا فَرَغْنَا حضرت عبداللہ بن بسر نے کہا: ہم تو اس وقت فارغ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ وَذَلِكَ حِيْنَ التَّسْبِيحِ۔بھی ہو جاتے تھے اور یہ وہ وقت ہے جب کہ ( صبح کی نماز کے بعد ) نفل پڑھے جاتے ہیں۔