صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 361 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 361

البخاری جلد ۲ ۳۶۱ ۱۳ - كتاب العيدين النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَوَّلَ مَا که حضرت براء بن عازب سے مروی ہے۔انہوں نے نَبْدَأُ فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ تُصَلِّيَ ثُمَّ تَرْجِعَ کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: پہلا کام جو ہم اپنے اس تہوار میں فَتَنْحَرَ فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ أَصَابَ کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم نماز پڑھتے ہیں پھر ہم لوٹ جاتے ہیں اور قربانی کرتے ہیں۔پس جس نے ایسا کیا وہ ٹھیک ہمارے طریق پر چلا اور جس نے نماز سے پہلے و سُنَتَنَا وَمَنْ نَحَرَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ قَدَّمَهُ لِأَهْلِهِ لَيْسَ مِنَ النُّسْكِ فِي ذبح کیا وہ صرف گوشت ہی ہے جو اس نے اپنے گھر والوں شَيْءٍ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ کے لئے کیا ہے۔قربانی سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔اس پر أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَبَحْتُ انصار میں سے ایک شخص نے جن کو حضرت ابو بردہ بن نیار وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُّسِنَّةٍ فَقَالَ کہتے تھے ، کہا: یا رسول اللہ میں تو ذبح کر چکا ہوں۔اب ! اجْعَلْهُ مَكَانَهُ وَلَنْ تُو فِيَ أَوْ تَجْزِيَ عَنْ میرے پاس ایک برس کی پٹھیا ہے جو دو سال کی بکری سے بہتر ہے۔آپ نے فرمایا: اس کی جگہ اس کو ذبح أَحَدٍ بَعْدَكَ۔کر دو۔تمہارے بعد کسی کو یہ اجازت کام نہ دے گی۔اطرافه ۹۵۱، ۹۰۰، ۹۶۸، ۹۷٦، ۹۸۳، ٥٥٤٥، ٠٥٥٦، ٥٥٥٧ ٥٥٦٠، ٥٥٦٣ ٠٦٦٧٣ الْخُطْبَةُ بَعْدَ الْعِيدِ : حضرت معاویہ وغیرہ نے مذکورہ بالا نت بدل ڈالی تھی جیسا کہ روایت نمبر ۹۵۶ تشریح: میں اس کا ذکر گذر چکا ہے۔اس باب کے تحت چار روائتیں لائی گئی ہیں۔پہلی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے طریق عمل کا حوالہ دیا گیا ہے۔حضرت عثمان کے متعلق بھی حسن بصری کی ایک روایت میں آیا ہے کہ پہلے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی سنت کے مطابق خطبہ نماز کے بعد پڑھا کرتے تھے مگر جب دیکھا کہ بعض لوگ نماز با جماعت نہیں پاسکتے تو خطبہ پہلے پڑھنا شروع کر دیا تھا۔(فتح الباری جزء ثانی صفحه ۵۸۲) گویا انہوں نے نماز باجماعت پڑھنے کو خطبہ سننے پر ترجیح دی۔یہ ممکن ہے کہ حضرت عثمان نے بعض وقت ایسا کیا ہو اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عدم مداومت کی وجہ سے حضرت ابن عمر نے ان کا نام عمد انظر انداز کر دیا ہو۔(روایت نمبر ۹۶۳) روایت نمبر ۹۶۵ سے یہ دلیل رو کی گئی ہے کہ جمعہ کا دن عید قرار دیئے جانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس کے احکام عیدین پر جاری ہوں یعنی ان میں بھی جمعہ کی طرح خطبہ نماز سے پہلے پڑھا جائے اور اذان دی جائے۔جمعہ کی نماز سے پہلے اور بعد نوافل پڑھتے ہیں مگر عیدین میں نہیں۔(دیکھئے روایت نمبر ۹۶۴) روایت نمبر ۹۶۵ میں پھر حضرت براء بن عازب کی روایت ایک اور سند سے نقل کر کے الفاظ إِنَّ اوَّلَ مَا نَبَدَا بِہ کی طرف توجہ دلائی گئی ہے یعنی پہلے نماز پڑھی جاتی تھی۔ایک سال کی پٹھیا ذبح کرنے کی اجازت حضرت ابو بردہ کے لئے خاص ہے۔